روایت: ’’مجھے میرے رب نے تعلیم دی اور مجھے علم میں خوب اچھا بنایا، مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور مجھے ادب میں خوب اچھا بنایا‘‘، جملہ اول تو کہیں نہیں دیکھا، البتہ دوسرے جملے کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ l وحافظ سخاوی l فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی ثابت سند نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×علمني ربي فأحسن تعليمي، أدبني ربي فأحسن تأديبي، أو كما قال عليه الصلوة والسلام÷ یہ حدیث کس کتاب میں ہے؟
جواب: حدیث ×علمني ربي فأحسن تعليمي، أدبني ربي فأحسن تأديبي÷. کا جملہ اول تو کہیں نہیں دیکھا، ہاں دوسرا جملہ بعض ضعیف روایتوں میں وارد ہوا ہے۔
×[قال السخاوي] فأخرج العسكري في الأمثال من جهة السُدِّي عن أبي عُمارة، عن علي رضي الله تعالى عنه قال: قدم بنو نَهْد بن زيد على النبي صلى الله عليه وسلمفقالو: أتيناك من غَوْرَي تِهامة، وذكر خطبتهم وما أجابهم به النبي صلى الله عليه وسلم، قال: فقلنا يا نبي الله! نحن بنوأب واحد، ونشأنا في بلد واحد، وإنك لتكلم العرب بلسان ما نَفْهَمُ أكثره، فقال: إن الله عزوجل أدبني فأحسن أدبي، ونشأت في بني سعد بن بكر.
[قال السخاوي] وسنده ضعيف جدا .
[قال السخاوي] وأخرج أبو سعد السمعاني في أدب الإملاء بسند منقطع فيه من لم أعرفه عن عبد الله، أظنه ابن مسعود رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله أدبني فأحسن تأديبي، ثم أمرني بمكارم الأخلاق فقال: خذ العفو وامر بالعرف وأعرض عن الجهلين.
[قال السخاوي] وأخرج ابن عساكر وثابت السَرَقُسْطِي في الدلائل بسند واه من حديث جد محمد بن عبدالرحمن الزهري قال: قال رجل من بني سليم للنبي صلى الله عليه وسلم: يارسول الله! أيُدَالِكُ الرجلُ امرأتَه؟ قال: نعم إذا كان مفلجا [كذا فيه، وكذا في نسختنا من المقاصد، لكن في نسختنا من تاريخ ابن عساكر والنهاية في غريب لأثر لابن الأثير: مُلْفَجا ]، قال: فقال له أبو بكر رضي الله تعالى عنه يارسول الله! ما قال لك؟ قال: قال لي أيُمَاطِلُ الرجل امرأته؟ قلت: نعم إذا كان مفلسا، قال: فقال أبو بكر رضي الله تعالى عنه: مارأيت أفصح منك، فمن أدبك يارسول الله!؟ قال: أدبني ربي، ونشأت في بني سعد .
[قال السخاوي] وبالجملة فهو كما قال ابن تيمية (ص: ۳۷۵/۱۸) لايعرف له إسناد ثابت.
[قال الشيخ الجونفوري] كذا في المقاصد الحسنة(ص: ۲۹) بتصرف‘‘[1].
[ (حافظ سخاویl فرماتے ہیں) عسکری l نے ’’الامثال‘‘ میں سُدِّی عن ابوعمارہ، عن علی r کی سند سے تخریج کیا ہے کہ علی r فرماتے ہیں کہ نَہد بن زید کا وفد نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس تِہامہ کی دونوں جوانب کی پست زمین سے حاضر ہوئے ہیں، اور (اس کے بعد انہوں نے) آپ ﷺ سے اپنی گفتگو اور آپ ﷺ کے جوابات ذکر کیے۔
علی r فرماتے ہیں کہ وفد نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! ہم ایک باپ کی اولاد ہیں، اور ہم نے ایک ہی شہر میں نشو ونما پائی ہے، اور آپ ﷺ تو عرب سے ایسی زبان میں بات چیت فرمارہے ہیں جن کے اکثر الفاظ ہم نہیں سمجھ پارہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے ادب سکھایا ہے، اور مجھے ادب میں خوب اچھا بنایا ہے، اور میں نے بنوسعد بن بکر میں پرورش پائی ہے، (حافظ سخاوی l فرماتے ہیں) اس حدیث کی سند شدید ضعیف ہے۔
(حافظ سخاوی l فرماتے ہیں) نیز ابو سعد سمعانی l نے ’’ادب الاملاء‘‘ میں ایک منقطع سند، جس میں ایسے راوی بھی ہیں جنہیں میں نہیں جانتا ہوں، عبد اللہ r - میرا گمان ہے کہ ابن مسعود r مراد ہے - سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بلاشبہ اللہ نے مجھے ادب سکھایا، اور مجھے ادب میں خوب اچھا بنایا ہے، اچھے اخلاق کا حکم دیا، چنانچہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:سرسری برتاؤ کو قبول کر لیا کیجئے اور نیک کام کی تعلیم کردیا کیجئے اور جاہلوں سے ایک کنارہ ہوجایا کیجئے(بیان القرآن:سورۂ اعراف:آیت:۱۹۹)۔
(حافظ سخاوی lفرماتے ہیں) ابن عساکر l اور ثابت سَرَ قُسْطِی l نے - دلائل میں - واہی سند سے محمد بن عبد الرحمن زہری کے دادا سے تخریج کیا ہے کہ نبی ﷺ سے بنوسُلیم کے ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا کوئی مرد اپنی بیوی سے مُدَالاک کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جی ہاں! جبکہ وہ مُلْفَج ہو۔
راوی کہتے ہیں کہ ابوبکر r نے عرض کیا، یا رسول للہ ! اس نے آپ سے کیا کہا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ پوچھ رہا ہے کہ کیا کوئی شخص اپنی بیوی سے ٹال مٹول کرسکتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں! جب کہ وہ مفلس ہو، ابوبکر r نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نے آپ ﷺ سے زیادہ فصیح کسی کو نہیں دیکھا، آپ کو ادب کس نے سکھایا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے میرے رب نے ادب سکھایا ہے اور میں نے بنوسعد میں پرورش پائی ہے۔
(حافظ سخاوی lفرماتے ہیں) خلاصہ یہ کہ بقول ابن تیمیہl اس کی ثابت سند کی معرفت نہیں ہے۔
(حضرت جونپوری l فرماتے ہیں) کسی قدر تبدیلی کے ساتھ (یہ سارا مضمون) ’’المقاصد الحسنہ‘‘ میں ہے]
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:چند احادیث کا ثبوت،۲/۱۸۹ - ۱۹۱۔
دیگر تفصیلات کے لئے حافظ سخاویl کی ’’الاجوبۃ المرضیۃ‘‘ (ص:۲۴۵) دیکھئے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تمہاری دنیا میں، تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو، عورتیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے،اس کے بعد حضرت ابوبکرr نے ارشاد فرمایا کہ مجھے بھی تین چیزیں محبوب ہیں .... پھر حضرت عمر r نے بھی یہی فرمایا،اور ان کے بعد حضرت عثمان r و حضرت علی r نے بھی اپنی تین محبوب چیزیں ذکر کیں‘‘، آپ اس کی کوئی صحیح یا حسن یا ضعیف سند ہی نہ پائیں گے۔
[میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ’’ مُنَبِّہَات‘‘ نہ تو حافظ ابن حجر عسقلانی l کی تصنیف ہے اور نہ ہی علامہ ابن حجر ہیتمی مکی lکی تالیف ہے]
روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت: ’’جب اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں تو آپ مجھے اپنے محبوب شہر میں آباد کر دیجئے‘‘،ذہبی l فرماتے ہیں کہ یہ موضوع ہے۔
[محققین علماء حدیث کے نزدیک ضعیف حدیث کو صیغۂ تمریض ہی سے ذکر کرنا چاہئے،ان کے نزدیک اسے صیغۂ جزم سے لکھناانتہائی قبیح تساہل ہے]