روایت: ’’ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک وہ ہے جو میرے جوہر اور میری ہمت میں میرا شریک ہوگا‘‘۔
باب: مقامِ مصطفیٰ ﷺ و نورِ محمدی
نبی کریم ﷺ کی شان و مقام، نورِ محمدی، «لولاک» اور تخلیق سے پہلے کے حالات سے متعلق روایات۔
گروپ: سیرت
27 روایات
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے آدم e پر دو خوبیوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے: میرا شیطان کافر تھا، پھر اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا، اور میری بیویاں میری مددگار ہیں، اور آدم e کا شیطان کافر تھا ، اور ان کی زوجہ نے لغزش پر ان کا ساتھ دے دیا‘‘۔
روایت:’’آپﷺ کا ارشاد ہے: میں ایک لطیف جوہر تھا، میں عرش کا طواف کر رہا تھا کہ اللہ تعالی کی مجھ پر نظر پڑگئی، سو مجھے حیاء آئی اور پسینہ آگیا، تو مجھ سے پسینہ کے سات قطرے ٹپکے، پھر پہلے قطرے سے اللہ تعالی نے ابو بکر r، دوسرے سے عمر r، تیسرے سے عثمان r، چوتھے سے علی r، پانچویں سے گلاب کا پھول، چھٹے سے چاول اور ساتویں قطرے سے کدو کو پیدا کیا‘‘۔
روایت:’’حسان بن ثابتr فرماتے ہیں:’’لما نظرت إلى أنواره وضعت كفي على عيني خوفا من ذهاب بصري‘‘. جب میں نے آپ ﷺ کے چہرے کے انوار کی طرف دیکھا تو میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا کہ کہیں میری بینائی نہ چلی جائے‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: میری عزت وجلال کی قسم! اے محمد! میں کسی ایسے شخص کو جہنم کا عذاب نہیں دوں گا جس نے اپنا نام آپ کے نام سے رکھا ہو‘‘۔
روایت: ’’ لم يكن يُرى له ظِلٌ .....‘‘ .
حضور ﷺ کا سایہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’لولاك لما خلقت الأفلاك‘‘.تر جمہ:الله تعالىٰ كا ارشاد ہے كہ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے،میں افلاک کو پیدانہ کرتا۔
روایت: نورِ محمدی ﷺ سے اندھیرے میں گمشدہ سوئی کی چمک۔
روایت: حدیث قدسی: اللہ تعالی کا اپنے نبی شعیا e کے واسطہ سے آسمان وزمین کو مخاطب کرکے نبیﷺ کی شان بیان کرنا۔
روایت: ’’ لي مع الله وقت، لا يسع فيه ملك مقرب ولا نبي مرسل‘‘. میرے اور اللہ کے درمیان کچھ خاص اوقات ہوتے ہیں، جہاں کوئی فرشتہ بھی پَرْ نہیں مارسکتا، اور جہاں کوئی نبی مرسل یعنی جبرائیل e بھی نہیں جاسکتے ۔