التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”حق جل جلا لہ نے آنحضرت ﷺ کا سایہ اپنے پاس رکھ لیا تا کہ تسلی رہے“، یہ جاہلوں کی ایجاد ہے۔

تفصیل

”۔۔۔ اسی   طرح  ایک  اور  شعر  ہے :    ؎

پے تسکین خاطر صورت پیراہن یوسف                       محمد کو جو بھیجا حق نے سایہ رکھ لیا قد کا

یعنی جیسے یعقوب e نے اپنی تسلی کے واسطے حضرت یوسف e کاکرتہ مبارک رکھ لیا تھا، اسی طرح حق جل جلا لہ نے آنحضرت ﷺ کا سایہ اپنے پاس رکھ لیا کہ تسلی رہے، کیا (نعوذ باللہ) حضور ﷺ دنیا میں آکر خدا سے غائب ہو گئے تھے اور نظر نہ آتے تھے،  کیا  (نعوذ باللہ) حق تعالیٰ کو سکون کی بھی ضرورت ہے؟ ناس ہو ایسی جہالت کا، شاعر نے اپنے نزدیک حس  [كذا في الأصل]  تعلیل برتی ہے اور اس پر نازاں ہے: اول تو وہ روایت ہی متکلم فیہ ہے جس میں حضور ﷺ کے سایہ نہ ہو نے کا بیان ہے، دوسرے خود اس روایت میں سایہ نہ ہونے کی وجہ بھی موجود ہے کہ آپ پر ابر سایہ فگن رہتا تھا، اس لیے حضور ﷺ کا سایہ نہ ہو تا تھا، اور یہ  علت کیسے ہو سکتی ہے جو شاعر نے بیان کی  ہے، کیا  وہ  خدا  کو  حاضر  و ناظر  نہیں  جانتا؟[1]۔

حوالہ جات

[1] خطبات حکیم الامت : مضامین لغت میں گمراہ شعراء کا غلو    ،۳۱/۴۷ ،ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔