روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ الدنيا حلم، وأهلها عليها مجازون ومعاقبون‘‘. دنیا ایک خواب ہے، اور اہل دنیا کو اس پر جزا اور سزا دی جائے گی‘‘۔
باب: زہد و دنیا کی مذمت
دنیا کی بے ثباتی، زہد، فقر اور آخرت کی فکر۔
گروپ: اخلاق و آداب
14 روایات
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ أوحى الله إلى الدنيا: يا دنيا! اخدمي من خدمني، وأتعبي يا دنيا! من خدمك‘‘. اللہ تعالیٰ نے دنیا کی طرف وحی فرمائی، اے دنیا! تو اس کی خدمت کر جو میری خدمت کرے، اور اے دنیا! تو اسے تھکا دے جو تیری خدمت کرے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من طلب ما عند الله كانت السماء ظلا له، والأرض فراشه، لم يهتم بشيء من أمر الدنيا، فهو لا يزرع الزرع وهو يأكل الخبز، وهو لا يغرس الشجر ويأكل الثمار، توكلا على الله تعالى وطلبا لمرضاته، فضمن الله السماوات السبع والأرضين السبع رزقه، فهم يتعبون فيه، ويأتون به حلالا، ويستوفي هو رزقه بغير حساب عند الله تعالى، حتى أتاه اليقين‘‘. جو شخص اس چیز کی طلب میں لگ جائے جو اللہ تعالی شانہ کے پاس ہے، آسمان اس کا سایہ ہو، زمین اس کا بسترہ ہو، دنیا کی کسی چیز کی اس کو فکر نہ ہو، تو ایسا شخص بغیر کھیتی کئے روٹی کھائے گا، بغیر باغ لگائے پھل کھائے گا، اللہ تعالی پر اس کا توکل ہو اور اس کی رضا کی جستجو میں لگا رہتا ہو، اللہ جل شانہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کو اس کی روزی کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں، وہ سب کے سب اس کو روزی پہنچانے کےلئے کوشاں رہتے ہیں، وہ اس کو حلال روزی پہنچاتے ہیں، اور وہ اللہ تعالی کے ہاں بغیر حساب کے اپنی روزی پوری کر لیتا ہے، حتی کہ اسے موت آجاتی ہے‘‘۔
روایت: جائز تمنا پوری نہ ہونے پر فقیر کا ٹھنڈا سانس لینا، آدمی کی سو سالہ عبادت کے برابر ہے۔
روایت: ’’الدنيا ضَرَّة الآخرة‘‘.دنیا آخرت کی سوکن ہے۔
روایت: ’’دنیا مردار ہے اور اس کے چاہنے والے کتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا قول ہے: ’’وقوله صلى الله عليه وسلم: الجوع طعام الله، يحيي به أبدان الصديقين‘‘.بھوک خدائی غذا ہے، اس سے صدیقین کے بدن زندگی پاتے ہیں ‘‘۔
روایت: ’’الدنيا مزرعة الآخرة‘‘.دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔
روایت: ×الدنيا جيفة وطالبها كِلاب÷؟ (دنیا مردار ہے اور اس کے طلب گار کتے ہیں ) حدیث بلفظہ تو موجود نہیں ہے، ہاں بمعناہ ملتی ہے۔
روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔