روایت: جائز تمنا پوری نہ ہونے پر فقیر کا ٹھنڈا سانس لینا، آدمی کی سو سالہ عبادت کے برابر ہے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] قوت القلوب:ص:1494،ت:محمود إبراهيم محمد الرضواني،مكتبة دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1422هـ .
[2] إحياء علوم الدين:4/204،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
’’احیاء علوم الدین‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقال أبو سليمان الداراني رحمه الله تعالى: تنفس فقير دون شهوة لا يقدر عليها أفضل من عبادة غني ألف عام‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرت موسیٰe کا بے اولاد عورت کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ پیغام دینا کہ تمہاری قسمت میں اولاد نہیں ہے، پھر فقیر کو صدقہ دینے سے اللہ تعالی کا اس کو چار بیٹے عطا کرنا۔
روایت: ’’اللہ جل جلالہ کے حکم پر ابلیس کا رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا، اور آپ ﷺ کا ابلیس سے اس کے دشمنوں اور دوستوں کے بارے میں سوال کرنا، اور ابلیس کا بتانا کہ آپ ﷺ کی امت میں میرے پندرہ دشمن، اور دس دوست ہیں‘‘۔
روایت: حضرت عمرr ایک مجلس میں بیٹھے فیصلے فرمارہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان کو دو نوجوان خوبصورت لباس پہنے گھسیٹ کر لائے، اور کہا کہ ہمارے والد باغ میں کام کر رہے تھے، اس شخص نے ہمارے والد کو قتل کردیا ہے، ہمیں قصاص چاہئے، حضرت عمر r کے پوچھنے پر اس نوجوان نے قتل کا اقرار کیا، اور قتل کرنے کی وجہ بیان کی، پھر نوجوان نے حضرت عمر r سے تین دن کی مہلت مانگی کہ میرے پاس میرے بھائی کی امانت رکھی ہوئی ہے، میں اس کو واپس کرکے آتا ہوں، حضرت عمر r نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ اس کی کوئی ضمانت لیتا ہے، پھر نوجوان کا حضرت ابو ذرr کو اپنا کفیل بنانا، تیسرے دن حضرت عمر r نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر نوجوان نے تاخیر کی تو میں ابو ذر r سے متعلق وہ کر گزروں گا جس کا اسلامی شریعت تقاضہ کرتی ہے، حاضرین لمبی لمبی سانس لینے لگے، شور وشغب بڑھ گیا، ہچکیاں بڑھ گئیں،بڑے صحابہ p نے ان دو نوجوانوں کو دیت کی پیش کش کی، لیکن وہ دونوں مقتول کے خون کا بدلہ لینے پر ہی اصرار کرتے رہے، چنانچہ صحابہ p بے چین ہوگئے، اور ابو ذر rپر افسوس کرتے ہوئے چیخ وپکار کرنے لگے، اچانک وہ نوجوان آگیا، پھر ان دو نوجوانوں نے اپنے والد کے قاتل کو معاف کردیا۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی عالم کو سہارا دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر قدم کے بدلہ میں ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں، اور اگر کوئی آدمی محبت وعقیدت کی وجہ سے کسی عالم کے ماتھے یا سر پر بوسہ دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر بال کے بدلہ میں اس کو نیکی عطا فرماتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو آدمی تہجد پڑھتا ہے، اس کے جسم کے اعضاء ایک دوسرے کو کہتے ہیں: ’’قد قام صاحبنا لخدمة الله تعالى‘‘. ہمارا ساتھی (آج رات) اللہ تعالی کی خدمت گزاری کےلئے کھڑا ہوگیا ہے‘‘۔