روایت: ’’الدنيا ضَرَّة الآخرة‘‘.دنیا آخرت کی سوکن ہے۔
حکم: یہ رسالت مآبﷺ کا قول نہیں ہے،البتہ بعض محدثین کی تصریح کے مطابق یہ حضرت عیسی e کا قول ہے۔
تفصیل
تنبیہ:’’احیاء علوم الدین ‘‘میں مذکورہ روایت نہیں مل سکی۔
حوالہ جات
[1] كشف الخفاء:۱/ ۴۶۳، ت: یوسف بن محمود، مکتبة العلم الحدیث – دمشق، ط: ۱۴۲۱هـ .
[2] مسند أحمد:۳۲/ ۴۷۰، رقم:۱۹۶۹۷، ت: شعيب الأرنؤوط، مؤسسة الرسالة– بيروت، ط: ۱۴۲۱ هـ .
[3] مجمع الزوائد:۱۰/ ۴۳۵، رقم:۱۷۸۲۵، ت: عبدالله محمد درويش، دار الفكر– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
[4] المغني عن حمل الأسفار:۱/ ۸۷۳، رقم:۳۱۹۳، ت: أشرف عبد المقصود، مكتبة طبرية – الرياض، ط:۱۴۱۵ هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’الدنيا مزرعة الآخرة‘‘.دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔
روایت: ’’من استوى يوماه فهو مغبون‘‘. جس شخص کے دونوں دن (اعمال کے اعتبار سے) برابر ہوں وہ شخص خسارے میں ہے ۔
اللہ کے راستے میں نکلنے پر پانچ سو(۵۰۰)فرشتوں کی حفاظت
روایت : ’’ من زار العلماء فكأنما زارني، ومن صافح العلماء فكأنما صافحني، ومن جالس العلماء فكأنما جالسني، ومن جالسني في الدنياأجلس إليّ يوم القيامة‘‘.
ترجمہ: جس نے علماء کی زیارت کی،گویا کہ اس نے میری زیارت کی،جس نے علماء سے مصافحہ کیا، گویا کہ اس نے مجھ سے مصافحہ کیا،جس نے علماء کی ہم نشینی اختیارکی،گویا کہ اس نے میری ہم نشینی اختیار کی،اور جس نے دنیا میں میری ہم نشینی اختیار کی اللہ تعالی آخرت میں اسے میری ہم نشینی عطا فرمائیں گے۔
ابو جہل کے دروازے پر آپ ﷺ کادعوت دینے کےلئےسو دفعہ جانا