روایت: ×الدنيا جيفة وطالبها كِلاب÷؟ (دنیا مردار ہے اور اس کے طلب گار کتے ہیں ) حدیث بلفظہ تو موجود نہیں ہے، ہاں بمعناہ ملتی ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×الدنيا جيفة وطالبها كِلاب÷؟ [دنیا مردار ہے اور اس کے طلب گار کتے ہیں ]
جواب: اور حدیث ثالث [یعنی مذکورہ روایت] بھی بلفظہ باوجود کثیر تتبع کے نہیں ملی، لیکن اس کے معنی احادیث میں ملتے ہیں جو ’’کنز العمال‘‘ اور ’’منتخب کنز العمال‘‘ وغیرہ میں مذکور ہیں:
×عن علي رضي الله تعالى عنه قال: الدنيا جيفة، فمن أرادها فليصبر على مخالطة الكِلاب. أبو شيخ منتخب (ص :۱۹۲/ ۱) أوحى الله إلى داود: يا داود! مثل الدنيا كمثل جيفة، اجتمعت عليها الكِلاب يجرونها، أفتحب أن تكون كلبا مثلهم فتجر معهم؟ يا داود! طِيبُ الطعام ولِينُ اللباس والصِيْتُ في الناس، وفي الآخرة الجنة، لا تجتمع أبدا. الديلمي عن علي رضي الله تعالى عنه، منتخب (ص :۱۸۲/ ۱)÷.‘‘
[ علی r سے منقول ہے: دنیا مردار ہے، جس کا ارادہ دنیا حاصل کرنے کا ہو تو وہ کتوں سے جھگڑنے کو برداشت کرے۔ ابوالشیخ l’’منتخب‘‘ ۔ اللہ نے داود e کی جانب وحی فرمائی: اے داؤد ! دنیا کی مثال مردار کی سی ہے، جسے کتے جمع ہو کر گھسیٹ رہے ہوں، کیا آپ بھی یہ چاہتے ہیں کہ ان کی مانند کتا بن کر ان کے ساتھ مل کر آپ بھی اسے گھسیٹیں ؟ اے داؤد ! عمدہ روزی، نرم لباس، اور لوگوں میں شہرت (دنیا میں)، اور آخرت میں جنت،کبھی جمع نہیں ہوسکتے،’’منتخب‘‘]
اس کے بعد سیوطی lکی کتاب ’’الدررالمنثورة‘‘ میں حدیث مسئول پر کلام ملا،فرماتے ہیں (ص:۸۶):
×الدنيا جيفة و الناس كلابها. أبو شيخ في تفسيره عن علي موقوفا: الدنيا جيفة، فمن أرادها فليصبر على مخالطة الكِلاب. وأخرج الديلمي عن علي موقوعا: أوحى الله إلى داود إلخ÷.
[دنیا مردار ہے، اور لوگ اس کے کتے ہیں۔ ابوالشیخ l نے اپنی تفسیر میں علی r سے موقوفاً نقل کیا: دنیا مردار ہے، جس کا ارادہ دنیا حاصل کرنے کا ہو وہ کتوں سے جھگڑنے کو برداشت کرے۔ اور دیلمی l نے علی r سے مرفوعاً تخریج کیا ہے: اللہ نے داؤد e کی جانب وحی فرمائی الخ]
علامہ سیوطیl نے بھی وہی دونوں حدیثیں ذکر فرمائی ہیں جو بندہ نے ذکر کی ہیں اور حاصل یہ ہے کہ حدیث بلفظہ تو موجود نہیں ہے، ہاں بمعناہ ملتی ہے، واللہ اعلم۔
علامہ شعرانی l نے ’’طبقات‘‘ میں حضرت علی rکا مقولہ نقل کیا ہے جس کا ترجمہ حضرت شیخ مدظلہ نے ’’تاریخ مشائخ چشت‘‘ (ص: ۱۲۰) میں نقل کیا ہے، وهوهذا:
’’فرمایا کرتے تھے کہ دنیامردار ہے اوراس کے چاہنے والے کتے ہیں، لہٰذا جو اس دنیا سے لینا چاہے وہ کتوں کے ساتھ ملا جلا کرے۔ علامہ شعرانی l نے اس مقولہ کی شرح کر تے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو حاجات ضروریہ سے زائد ہوں،اور جو چیزیں حاجت اور ضرورت کی ہیں وہ اس میں داخل نہیں، انتہیٰ ‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: الدنیا جیفة وطالبه اکلاب ۔۔۔،۱/۲۸۵،۲۸۸۔
حافظ
صغانی l نے ’’الموضوعات‘‘
(ص: ۳۸،رقم:۳۶)میں اسے موضوع کہا ہے،علامہ
عجلونی l
’’ کشف الخفاء‘‘ (۱/ ۴۶۸، رقم:۱۳۱۳)میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث نہیں ہے،اگرچہ اس کا معنی صحیح ہے، علامہ نجم الدین غَزی l’’إتقان
مایحسن‘‘ (ص:۲۰۸،رقم:۷۸۹)میں اور علامہ احمد
بن عبدالکریم l ’’الجدالحثیث‘‘ (ص:۱۰۰،رقم:۱۶۵) میں فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ مرفوعاً ثابت نہیں ہیں ۔
واضح
رہے کہ روایت ہذا کے مضمون پر مشتمل ایک دوسری روایت حضرت انس بن مالکr سے منقول
آپ ﷺ سےقابلِ بیان سند سے ثابت ہے، جسے حافظ ابوبکر بزارl نے اپنی ’’مسند‘‘ (۱۳/ ۸۹، رقم:۶۴۴۴)میں ذکر فرمایا ہے،الفاظ یہ ہیں : ’’حضرت انس r آپ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ایک منادی کہتا ہے : دنیا کو دنیاداروں کے لئے
چھوڑ دو، دنیا کو دنیاداروں کے لئے چھوڑ دو، دنیا کو دنیاداروں کے لئے چھوڑ
دو - یعنی تین دفعہ یہ ارشاد فرمایا- جو
شخص کفایت سے زیادہ دنیا لے تو وہ مردار کو لینے والا ہے اور اس کو اس کا شعور
نہیں ہوتا‘‘ ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔
روایت: ’’×طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة÷. (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے)‘‘، اس میں لفظِ ×مسلمة÷ (مسلمان عورت) کا اضافہ ثابت نہیں ہے، لیکن معنی درست ہیں۔
روایت: ×الخير فيما وقع÷. جو ہوچکا اسی میں خیر ہے،یہ حدیث نہیں ہے۔
۴ - جزء روایت
×لولاك لما خلقت الأفلاك÷.
یہ لفظ کہیں ثابت نہیں ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی روایت اس مضمون کی ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔