بزرگوں کی حکایات اکثر جہلاء نے غلط بنادی ہیں
باب: تصوف، اولیاء و مشائخ
اولیاء و مشائخ، پیری مریدی، معرفتِ نفس اور صوفیانہ اقوال جنہیں حدیث بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
گروپ: عقائد
24 روایات
’’حضرت غوث اعظم قدس سرہ کاایک روح کی واپسی کے لئے ملک الموت سے زبردستی تمام روحوں کی زنبیل چھیننا،
لوحِ محفوظ میں ایک عورت کی اولاد کے نہ ہونے کے فیصلہ کے باوجود حضرت عبدالقادر جیلانی l کااسے سات بچے دلوانا،
نیزحضرت عبد القادر جیلانی l کا منکر نکیر سے سوالات کرنا‘‘، ان تینوں حکایات کی کوئی اصل نہیں، یہ واضح کسی مُلْحِد کی بنائی ہوئی ہیں۔
راویت: ’’پیغمبرﷺ نے فرمایا ہے: اے گستاخ مرید! کسی مرشد کی کبھی برابری نہ کر‘‘۔
روایت: تھوڑی سی دیر اولیاء کی ہمنشینی سو سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے۔
روایت: ”شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی امت میں “، اس کا حدیث ہونا ثابت نہیں۔
حکایت کہ حضرت غوث الاعظم l خود حضور ﷺ کی گیار ہویں کیا کر تے تھے، یہ ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’ہر چیز کا کوئی دفینہ ہوتا ہے، اور تقوٰی کا دفینہ عارفین کے دل ہیں‘‘، یہ متن صاحب رسالت ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ اہل تصوف کا کلام ہے
”قصہ جس میں حضرت غوث پاک l نے ایک بڑھیا کے اپنے مرے ہوئے فرزند کے زندہ کرنے کے مطالبے پر ملک الموت سے روحوں کا تھیلا چھین لیا“، یہ حکایت غلط منسوب ہے۔
جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔
حضرت سفیان ثوری l مسجد میں ایک بار اپنے سرین اور دونوں قدموں پر بیٹھے تھے، غیب سے آواز آئی کہ اَو ثور!۔۔۔
یہ قصہ محض کسی کا تراشیدہ۔