’’حضرت غوث اعظم قدس سرہ کاایک روح کی واپسی کے لئے ملک الموت سے زبردستی تمام روحوں کی زنبیل چھیننا،
لوحِ محفوظ میں ایک عورت کی اولاد کے نہ ہونے کے فیصلہ کے باوجود حضرت عبدالقادر جیلانی l کااسے سات بچے دلوانا،
نیزحضرت عبد القادر جیلانی l کا منکر نکیر سے سوالات کرنا‘‘، ان تینوں حکایات کی کوئی اصل نہیں، یہ واضح کسی مُلْحِد کی بنائی ہوئی ہیں۔
تفصیل
’’سوال: ان کرامتوں مفصلہ ذیل میں کیا حکم ہے؟ حضرت غوث اعظم قدس سرہ کے ایک مرید نے انتقال کیا، اس کا بیٹا روتا ہوا آپ کے پاس آیا، آپ نے اس کے حال پر رحم فرما کر آسمانِ چہارم پر جاکر ملک الموت سے روحِ مرید کو مانگا، ملک الموت نے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ کے حکم سے روح آپ کے مرید کی قبض کی ہے، آپ نے فرمایا میرے حکم سے چھوڑ دے، جب ملک الموت نے نہ دی تو آپ نے زبردستی زنبیل تمام روحوں کی جو اس دن قبض کی تھیں چھین لی، تمام روحیں پرواز کر کے اپنے اپنے جسد میں داخل ہوئیں، ملک الموت نے خدائے تعالیٰ کے پاس فریاد کی، ایک شخص مجنون نے زنبیل روحوں کی چھین لی، فرمایا وہ ادھر کو تو نہیں آتا؟ عرض کیا نہیں آتا، کہا اچھا ہوا جو واپس گیا ور نہ وہ اگر ادھر کو آتا تو حضرت آدم e سے لے کر اس وقت تک جتنے مرے ہیں سب کے زندہ کر نے کو کہتا تو مجھے سب زندہ کر نے پڑتے، رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت۔
ایک عورت حضرت عبد القادر جیلانی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : یا حضرت! مجھے بیٹا دو، آپ نے فرمایا کہ تیری تقدیر میں لوحِ محفوظ میں نہیں ہے، اس نے عرض کی اگر لوحِ محفوظ میں ہوتا تو تمہارے پاس کیوں آتی؟ آپ نے اللہ تعالیٰ سے کہا : یا خدا! تو اس عورت کو بیٹا دے، حکم ہوا اس کی قسمت میں لوحِ محفوظ میں بیٹا نہیں ہے، کہا: ایک نہیں تو دو دے، جواب آیا: ایک نہیں تو دو کہاں سے دوں؟ کہا : تو تین دے، کہا :جب ایک بھی نہیں تو تین کہاں سے؟ اس کی تقدیر میں بالکل نہیں، جب وہ عورت ناامید ہوئی،غوثِ اعظم نے غصہ میں آکر اپنے دروازہ کی خاک تعویذ بنا کر دے دی، اور کہا :تیرے سات بیٹے ہوں گے، وہ عورت خوش ہو کر چلی گئی اور اس کے سات بیٹے ہوئے۔
بعد وفات حضرت عبد القادر جیلانی l، ایک بزرگ نے آپ کو خواب میں دیکھا، کہا :منکر نکیر کے جواب سے آپ نے کیوں کر رہائی پائی؟ جناب شیخ نے فرمایا : یوں پوچھو منکر نکیر نے میرے سوالوں کے جواب میں کیونکر رہائی پائی؟ جس وقت میرے پاس قبر میں آئے، میں نے ان کے دونوں ہاتھ پکڑ لئے اور کہا: یہ بتلاؤ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم زمین میں اپنا خلیفہ پیدا کریں گے تو تم نے یہ کیوں کہا کہ اے اللہ ! تو ایسے شخص کو پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد پیدا کر ے گا؟ شاید تم نے اللہ تعالیٰ کو مشورت طلب [اصل میں اسی طرح ہے]ٹھہرایا۔
جوب: ۔ ۔۔ مولوی ارشاد حسین صاحب سے تعجب ہے کہ ظاہر ان حکایات کو[اصل میں اسی طرح ہے]خصوصاً پہلی حکایت کو خلافِ شرع نہیں جانتے، حق تعالیٰ سے غالب ہونا اور امرِ حق تعالیٰ کو رد کر دینا اور خدا تعالیٰ کا شیخ قدس سرہ سے ڈرنا تو صاف اس سے واضح ہے، اور پھر بھی خلافِ قاعدۂ شرع کے یہ نہیں تومعلوم نہیں وہ کونسا امر ہے کہ خلاف ہوتا ہے؟ اگر کوئی تاویل مولوی صاحب فرماکر یہ جواب لکھتے تو مضائقہ نہ تھا، مگر صاف طور پر ان کو تسلیم کرنا تھا[اصل میں اسی طرح ہے]،یہ مستبعد ہے علماء سے،کہ عوام کی غوایت [گمراہی]کو ایسا لکھنا کافی ہے۔
بہر حال یہ حکایات بظاہر خود کفر اور خلافِ قاعدۂ شرع کے ہیں، خصوصاً پہلی حکایت کہ مسلمانوں کو ایسا عقیدہ نہ کرنا چاہیئے،اور کمالاتِ شیخ کی عبودیت وبندگی اور عجزِ تام بدرگاہ حق تعالیٰ کے ہوتاہے،نہ ایسی حکایاتِ واہیہ آپ کی شانِ رفیع تسلیم ورضاوفنا پیش حق تعالیٰ واوامر حق تعالیٰ کے ہے[اصل میں اسی طرح ہے]، چنانچہ ان کے کلمات فتوح الغیب سے واضح لائح ہے، نہ کہ مقابلہ امرِ حق تعالیٰ کا اور مخاصمہ ذات پروردگار کے ساتھ، معاذاللہ!
الحاصل ان حکایات کی کوئی اصل نہیں، یہ واضح کسی مُلْحِدْ کی ہیں، اور شانِ بزرگان سے بعید ہے کہ ایسی حکایات لکھیں یا اس پر عقیدہ کریں۔۔۔‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : مشرکانہ حکایات پر اعتقاد، ص: ۵۷ ـ ۶۱، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
بزرگوں کی حکایات اکثر جہلاء نے غلط بنادی ہیں
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’جس نے سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تئیسں رمضان کی رات کو پڑھی تو وہ جنت والوں میں سے ہوگا‘‘، اغلب یہ ہے کہ یہ روایت من گھڑت ہے۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔