التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: تصوف، اولیاء و مشائخ

اولیاء و مشائخ، پیری مریدی، معرفتِ نفس اور صوفیانہ اقوال جنہیں حدیث بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

گروپ: عقائد

24 روایات

  1. روایت: ’’ قلبك لي فلا تدخل فيه حب غيري، ولسانك ليفلا تذكر به أحدا غيري، وبدنك لي فلا تشغله بخدمة غيري،وإن أردت شيئا فلا تطلبه إلا مني‘‘.اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تیرا دل میرے لئے ہے تو میرے غیر کی محبتاس میں داخل نہ کر، اور تیری زبان میرے لئے ہے تو اس سے میرےکسی غیر کو یاد نہ کر، اور تیرا بدن میرے لئے ہے تو اُسے میرے غیرکی خدمت میں مشغول نہ کر، اور جب تجھے کوئی چیز چاہیے ہو تومجھ ہی سے مانگ۔

  2. 1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔

    2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔

    3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔

    4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔

    5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔

    6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔

    7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔

    اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔

  3. {لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔