روایت: ’’حضرت اویس قرنیl کا آپﷺ کی موافقت میں اپنے دانت توڑنا‘‘، نیز اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی زبان زدِ عوام ہے کہ ’’دانت نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کے لئے کیلے کا درخت اگایا‘‘ ۔
باب: تصوف، اولیاء و مشائخ
اولیاء و مشائخ، پیری مریدی، معرفتِ نفس اور صوفیانہ اقوال جنہیں حدیث بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
گروپ: عقائد
24 روایات
روایت: آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: ’’موتوا قبل أن تموتوا‘‘. اپنے آپ کو مردہ سمجھو اس سے پہلے کہ تمہیں موت آجائے۔
حديث: ’’من عرف نفسه فقد عرف ربه‘‘ . ’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:جس نےاپنے نفس کو پہچانا،اس نےاپنے رب کو پہچان لیا‘‘۔
روایت: ’’ قلبك لي فلا تدخل فيه حب غيري، ولسانك ليفلا تذكر به أحدا غيري، وبدنك لي فلا تشغله بخدمة غيري،وإن أردت شيئا فلا تطلبه إلا مني‘‘.اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تیرا دل میرے لئے ہے تو میرے غیر کی محبتاس میں داخل نہ کر، اور تیری زبان میرے لئے ہے تو اس سے میرےکسی غیر کو یاد نہ کر، اور تیرا بدن میرے لئے ہے تو اُسے میرے غیرکی خدمت میں مشغول نہ کر، اور جب تجھے کوئی چیز چاہیے ہو تومجھ ہی سے مانگ۔
روایت: ’’×تخلقوا بأخلاق الله÷ (اللہ کے اخلاق اپناؤ)‘‘،صوفیانہ کلام ہے،حدیث کی کسی کتاب میں نظر سے نہیں گذرا۔
روایت: ’’مرنے سے پہلے مرجاؤ ‘‘، یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
{عند ذكر أولياء الله تنزل الرحمة}. اللہ کے اولیاء کے تذکروں میں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘، یہ کسی بزرگ کا مقولہ ہے، غالباً حدیث نہیں ہے۔
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔
{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے۔