’’وقتِ ذکرِ ولادت کے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے‘‘، بالکل غلط ہے، کسی روایت میں یہ نہیں لکھا۔
باب: بدعات و رسوم
انگوٹھے چومنا، قبر پر اذان، مخصوص ختم اور دیگر رسوم جن کی بنیاد بے اصل روایات پر ہے۔
گروپ: عقائد
10 روایات
{إذا تحیرتم في الأمور فاستعينوا بأهل القبور}. جب تم کاموں میں پریشان ہوجاؤ تو قبر والوں سے مدد مانگ لیا کرو، یہ حدیث من گھڑت ہے۔
{من جدد قبرا أو تمثالا فقد خرج عن الإسلام}.جس نے کسی قبر یا مجسمہ / تصویر کی تجدید کی وہ اسلام سے نکل گیا‘‘، یہ من گھڑت ہے۔
آج کل جو نبی ﷺ کے نقشِ قدم کو لئے پھرتے ہیں ان کا اعتبار نہیں۔
رمضان کے آخری جمعہ میں خطبہ الوداع (الوداع الوداع یا شہر رمضان!) پڑھنا بدعت ہے۔
’’ آپ ﷺکا اپنے صاحبزادے ابراہیم r کے لئے فاتحہ خانی کرنا‘‘،اس کا گھڑنے والا ملعون ہےکہ فخر عالم e پر تہمت باندھتا ہے۔
مصلے کے ایک کنارے کو موڑ دینا بے اصل ہے۔
محفل میلاد میں، روحِ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کا اعتقاد، جناب سرور ﷺ پر افتراء محض ہے۔
مصافحہ میں انگوٹھوں کو دبانا، بے اصل ہے۔
میت کے دفن کر نے کے بعد قبر پر اذان کہنا، بے اصل ہے۔