التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

رمضان کے آخری جمعہ میں خطبہ الوداع (الوداع الوداع یا شہر رمضان!) پڑھنا بدعت ہے۔

تفصیل

’’سوال:  پڑھنا آخر جمعہ کو ماہ رمضان المبارک میں، الوداع الوداع یا شہر رمضان! اور الوداع الوداع یا سنت التراویح ! اور اشعار فارسی یا اردو یا عربی کا، ہر جمعہ میں یا آخر جمعہ ماہ رمضان المبارک میں، درصورتیکہ عوام الناس خطبۃ  الوداع آخر جمعۃ رمضان المبارک کو سنت بلکہ قریب واجب جانتے ہوں کیسا ہے؟ آیا حسبِ زعم ان کے سنت یا مستحب یا بخلاف اس کے بدعت ہے، بدلائل عقلیہ ونقلیہ از کتبِ معتبرہ جواب ارقام فرمایا جاوے، بینوا تو جروا ۔

جواب:  یہ خطبہ بدعت ہے کہ مرثیہ اورا شعار قرون مشہو د لہا بالخیر میں خطبہ میں منقول نہیں، علی الخصوص جب اس فعل کو ضروری جانا جاوے کہ مؤکد جاننا کسی امر مستحب کا بھی داخل تعدی حدود اللہ اور بدعتِ ضلالہ ہے، چہ جائیکہ امرِ محدث، اور پھر غیر زبان عربی میں خطبہ پڑھنا مکروہ ہے، بہر حال یہ فعل عوام جہلاء خطباء کا اور سنت جاننا اس کا بدعتِ ضلالہ واجب ا لترک ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] تالیفات رشیدیہ : الوداع کا خطبہ پڑھنا، ص: ۱۳۸، ادارہ اسلامیات لاہور ۔

علامہ ابو الحسنات عبد الحی لکھنوی l  نے لکھا ہے کہ یہ مروجہ طریقہ بدعت سے خالی نہیں،دیکھئے: فتاویٰ عبد الحی l (ص:۵۳۴)۔ 

ملتی جلتی احادیث