’’ آپ ﷺکا اپنے صاحبزادے ابراہیم r کے لئے فاتحہ خانی کرنا‘‘،اس کا گھڑنے والا ملعون ہےکہ فخر عالم e پر تہمت باندھتا ہے۔
تفصیل
’’سوال: درکتاب آذر جندی کہ از ملا علی قاری ست روایت ست [ملا علی قاریl کی کتاب آذر جندی میں روایت ہے]: {قال: کان الیوم الثالث عن وفاة إبراهيم بن محمد صلى الله عليه وسلم، جاء أبو ذر عند النبي صلى الله عليه وسلم، معه تمرة يابسة ولبن الناقة وخبز الشعير، فوضعهما عند النبي صلى الله عليه وسلم، فقرأ النبي عليه الصلوة والسلام الفاتحة مرة وسورة الإخلاص ثلاث مرات، وقرأ: اللهم صل على محمد أنت لها أهل. فرفع يديه ومسح وجهه، فأمر بأبي ذر أن يقسمهما، وقال النبي صلى الله عليه وسلم: ثواب هذه الأطعمة لابني إبراهيم}. [ابراہیم بن محمد کی وفات کے تیسرے روزابو ذر r نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ خشک کجھوریں،اونٹنی کا گوشت،اور جو کی روٹی لے کر حاضر ہوئے،اور یہ چیزیں آپ ﷺ کی خدمت میں لا کر پیش کر دیں،نبی ﷺ نے اس پر ایک مرتبہ فاتحہ،تین مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھی،اور پھر یہ دعا کی: اے اللہ! محمد پر اپنی شان کے مطابق رحمت نازل فرمادیجئے،پھر ہاتھ اٹھا کر چہرے پر پھیر لئے،اور ابو ذر r سے کہا کہ یہ چیزیں لوگوں میں تقسیم کردو،اور مزید یہ فرمایا کہ اس کھانے کا ثواب میرے بیٹے ابراہیم کو ملے]
فقط، صحتِ نام کتاب، اور روایت کی، اس میں ہےیا نہیں، یا اور کسی کتاب میں ہے؟
جواب: نہ کتاب آذر جندی ازتصانیف ملا علی قاری ست و نہ روایت مذکورہ صحیح ومعتبر است بلکہ موضوع است وباطل برآں اعتماد نشاید درکتب حدیث نشانے از ہمچو روایت یافتہ نمی شود[کتاب آذرجندی نہ ملا علی قاری l کی تصنیف ہے، اور نہ مذکورہ روایت صحیح ومعتبر ہے بلکہ موضوع ہے، اور بالکل اس پر بھروسہ نہ کیا جائے، اور کتبِ حدیث میں ایسی روایت کا کوئی پتہ نہیں پایا جاتا]
حررہ الراجی عفور بہ القوی ابو الحسنات محمد عبد الحی تجاوز اللہ عن ذنبہ الجلی والخفی منقولہ از رسالہ شمشیر خنداں مؤلف مولانا دین محمد صاحب مرحوم مطبوعہ صدیقی لاہور۔
الجواب: یہ حدیث وضعی[گھڑی ہوئی] ہے اور بنانے والا۔۔۔[كذا في الأصل] اس کا کاذب اور مفتری ہے، اور آذر جندی کوئی کتاب ملا علی قاری l کی تصنیف سے نہیں ہے، انتہیٰ محمد صدر الدین صدر صدور دہلی [اس کے بعد بہت سے علماء کےدستخط ہیں]
الجواب صحیح: اور اس کا واضع[گھڑنے والا]ملعون ہےکہ فخرِ عالم e پر تہمت کرتا ہے فقط، رشید احمد گنگوہی عفی عنہ‘‘ [1]۔
ملتی جلتی احادیث
’’آپﷺ کا معراج کے موقع پر پیر صاحب کے کندھا دینے کے اعزاز میں یہ فرمانا کہ جا اے محی الدین !تیرے قدم سب اولیاؤں کی گردن پر‘‘، یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے اور اس کا گھڑنے والا ملعون ہے۔
جو شخص پان کھانے کی فضیلت آنحضرت ﷺ کے قول سے ثابت بتاتا ہو وہ بڑا جاہل بلکہ بے دین ہے۔
’’صلوۃ العاشقین‘‘ (ایک مخصوص نماز)،اس نماز کی سند کسی حدیث یا فقہ کی کتاب میں بندہ(حضرت گنگوہی l) نے نہیں دیکھی۔
’’حضرت عائشہ R امامِ ثالث (حضرت عثمان r )کو نَعْثَل[بے وقوف بڈھا] کہتی تھیں اور لعنت کرتی تھیں‘‘، معاذ اللہ یہ روافض کا محض طوفانِ بہتان ہے، اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یہ بات نہیں۔
آج کل جو نبی ﷺ کے نقشِ قدم کو لئے پھرتے ہیں ان کا اعتبار نہیں۔