میت کے دفن کر نے کے بعد قبر پر اذان کہنا، بے اصل ہے۔
تفصیل
فرمایا : کہ لوگ میت کے دفن کر نے کے بعد قبر پر اذان کہتے ہیں، شاید فرشتوں کو ڈراتے ہیں، (مطلب یہ کہ ایسا کرنا بے اصل ہے )[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت :قبر پر اذان دینے کا کوئی ثبوت نہیں ، ۲۶/۱۹۹، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
حافظ ابن حجر ہیتمی ؒ نے ”الفتاوى الكبرى الفقہيہ“(۲/۲۴)میں قبر پر اذان دیتے کو بدعت کہاہے،نيز علامہ ابن عابدین شامی ؒ نے ”رد المحتار“ (۲/۵۰)،(۳ /۱۴)میں حافظ ابن حجر ہیتمی ؒ کےقول پر اکتفاء کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
”میت پر دفن کے وقت تین بار اس آیت کو پڑھ کر مٹی ڈالنے سے اس کا ہمزاد شیطان بھی اس کے ساتھ دفن ہو جائے گا “، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
”حضرت حوا ؑ کی قبر جدہ میں ہے“، یہ کسی نے گھڑ لیا ہے۔
روایت: ”بلال r ، شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
مصافحہ میں انگوٹھوں کو دبانا، بے اصل ہے۔
دورانِ نماز حضرت علی r کے بدن سے تیر نکالنے والا مشہور قصہ، بے اصل ہے۔