مصلے کے ایک کنارے کو موڑ دینا بے اصل ہے۔
تفصیل
’’سوال: اکثر صاحبان مصلے کا ایک گوشہ موڑ دیتے ہیں، اس کی کیا اصلیت ہے؟
جواب: یہ بے اصل اور لغو ہے۔ فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :نماز کے بعد مصلّٰی کا ایک گوشہ موڑ دینا بے اصل ہے،۱۸/۴۳۸ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
’’دیوار پر تحریر کرنا مقروض ہونے کا باعث ہے، اور شام کے وقت جھاڑو دینا منع ہے، اور جمعرات کو رات کے وقت دستر خوان جھاڑنا منع ہے‘‘، ان اُمور کی کچھ اصل نہیں ہے۔
’’نیک عالم کا قبرستان سے گذر ہوجائے تو چالیس روز تک قبر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے‘‘، یہ روایت صحیح نہیں۔
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔
مشہور قضاءِ عمری کی نماز بے اصل ہے۔
{لاصلوة إلا بحضور القلب}. ’’دل کی توجہ کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘، ان الفاظ کے ساتھ کتبِ احادیث میں کوئی حدیث نہیں۔