التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

{من جدد قبرا أو تمثالا فقد خرج عن الإسلام}.جس نے کسی قبر یا مجسمہ / تصویر کی تجدید کی وہ اسلام سے نکل گیا‘‘، یہ من گھڑت ہے۔

تفصیل

’’سوال: یہاں مُحَرَّمَات محرم کی موافقت ومخالفت میں مسلمان خانہ جنگی میں مبتلاہیں، ایک صاحب نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے: {من جدد قبرا أو تمثالا فقد خرج عن الإسلام}. [جس نے کسی قبر  یا مجسمہ / تصویر  کی تجدید کی وہ اسلام سے نکل گیا]آیا یہ کسی کتاب کی حدیث ہے یا کسی بزرگ کا قول ہے؟

جواب: یہ کوئی حدیث نہیں ہے اور کسی معتبر کتاب میں نہیں ہے، یہ موضوع ہے، اس کو حدیث کہنا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ حدیث صحیح میں ہے: {من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار}. یعنی جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ بولا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، باقی تعزیہ سازی کی حرمت دوسرے دلائل شرعیہ سے ثابت ہے، اور پھر تعزیہ کے ساتھ جو امورِ مُحَرَّمَہ شرکیہ کئے جاتے ہیں وہ مُفْضِی الی الکفر  [کفر کی جانب لے جانے والے]ہوجاتے ہیں، والعياذ بالله تعالى، فقط، والله تعالى أعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند: {من جدد قبرا أو تمثالا فقد خرج عن الإسلام} موضوع روایت ہے، ۱۸/۱۶۲ مکتبہ حقانیہ ملتان۔

یہ روایت کتبِ شیعہ میں بانتساب حضرت علی بن ابی طالب r  ملتی ہے، اہل سنت کی کتابوں میں یہ روایت ہمیں نہیں ملی، ملاحظہ ہو:

ابو جعفر احمد بن محمد بَرْقِی(متوفی ۲۷۴ھ) ’’المحاسن‘‘ (۲/۴۵۳)میں لکھتے ہیں: {عنه عن أبيه عن ابن سنان، عن أبي الجارود، عن الأصبغ بن نباتة قال: قال أمير المؤمنين عليه السلام: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.

محمدبن علی قُمِّی(۳۰۶ھ/۳۸۱ھ) ’’من لایحضره الفقیه‘‘ (۱/۱۳۵)میں لکھتے ہیں: {وقال أمير المؤمنين عليه السلام: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.

نجم الدین ابو القاسم جعفر بن حسن  ہُذَلِی(متوفی ۶۷۶ھ) {المعتبر فی شرح المختصر} (۱/۳۰۴)میں لکھتے ہیں: {وقال أمير المؤمنين عليه السلام: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.

محمدبن حسن الحر عاملی(۱۰۳۳ھ/۱۱۰۴ھ) ’’وسائل الشیعہ‘‘ (۳/۲۰۸)میں لکھتے ہیں: {محمد بن الحسن بإسناده عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن سنان، عن أبي الجارود، عن الأصبغ بن نباتة قال: قال أميرالمؤمنين (عليه السلام): من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.

شریعت سنگلجی(۱۳۱۰ھ/۱۳۶۳ھ)  ’’توحید العبادۃ‘‘ (ص:۱۵۸)میں لکھتے ہیں: {روى أصبغ بن نباته عن أمير المؤمنين (ع) أنه قال: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.

علی  النمازی(متوفی ۱۴۰۵ھ) ’’مستدرک سفینۃ البحار‘‘ (۳۷۵/۸)میں لکھتے ہیں: {عن أمير المؤمنين (عليه السلام) قال: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.

ملتی جلتی احادیث