{من جدد قبرا أو تمثالا فقد خرج عن الإسلام}.جس نے کسی قبر یا مجسمہ / تصویر کی تجدید کی وہ اسلام سے نکل گیا‘‘، یہ من گھڑت ہے۔
تفصیل
’’سوال: یہاں مُحَرَّمَات محرم کی موافقت ومخالفت میں مسلمان خانہ جنگی میں مبتلاہیں، ایک صاحب نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے: {من جدد قبرا أو تمثالا فقد خرج عن الإسلام}. [جس نے کسی قبر یا مجسمہ / تصویر کی تجدید کی وہ اسلام سے نکل گیا]آیا یہ کسی کتاب کی حدیث ہے یا کسی بزرگ کا قول ہے؟
جواب: یہ کوئی حدیث نہیں ہے اور کسی معتبر کتاب میں نہیں ہے، یہ موضوع ہے، اس کو حدیث کہنا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ حدیث صحیح میں ہے: {من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار}. یعنی جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ بولا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، باقی تعزیہ سازی کی حرمت دوسرے دلائل شرعیہ سے ثابت ہے، اور پھر تعزیہ کے ساتھ جو امورِ مُحَرَّمَہ شرکیہ کئے جاتے ہیں وہ مُفْضِی الی الکفر [کفر کی جانب لے جانے والے]ہوجاتے ہیں، والعياذ بالله تعالى، فقط، والله تعالى أعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند: {من جدد قبرا أو تمثالا فقد خرج عن الإسلام} موضوع روایت ہے، ۱۸/۱۶۲ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
یہ روایت کتبِ شیعہ میں بانتساب حضرت علی بن ابی طالب r ملتی ہے، اہل سنت کی کتابوں میں یہ روایت ہمیں نہیں ملی، ملاحظہ ہو:
ابو جعفر احمد بن محمد بَرْقِی(متوفی ۲۷۴ھ) ’’المحاسن‘‘ (۲/۴۵۳)میں لکھتے ہیں: {عنه عن أبيه عن ابن سنان، عن أبي الجارود، عن الأصبغ بن نباتة قال: قال أمير المؤمنين عليه السلام: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.
محمدبن علی قُمِّی(۳۰۶ھ/۳۸۱ھ) ’’من لایحضره الفقیه‘‘ (۱/۱۳۵)میں لکھتے ہیں: {وقال أمير المؤمنين عليه السلام: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.
نجم الدین ابو القاسم جعفر بن حسن ہُذَلِی(متوفی ۶۷۶ھ) {المعتبر فی شرح المختصر} (۱/۳۰۴)میں لکھتے ہیں: {وقال أمير المؤمنين عليه السلام: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.
محمدبن حسن الحر عاملی(۱۰۳۳ھ/۱۱۰۴ھ) ’’وسائل الشیعہ‘‘ (۳/۲۰۸)میں لکھتے ہیں: {محمد بن الحسن بإسناده عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن سنان، عن أبي الجارود، عن الأصبغ بن نباتة قال: قال أميرالمؤمنين (عليه السلام): من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.
شریعت سنگلجی(۱۳۱۰ھ/۱۳۶۳ھ) ’’توحید العبادۃ‘‘ (ص:۱۵۸)میں لکھتے ہیں: {روى أصبغ بن نباته عن أمير المؤمنين (ع) أنه قال: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.
علی النمازی(متوفی ۱۴۰۵ھ) ’’مستدرک سفینۃ البحار‘‘ (۳۷۵/۸)میں لکھتے ہیں: {عن أمير المؤمنين (عليه السلام) قال: من جدد قبرا أو مثل مثالا فقد خرج من الإسلام}.
ملتی جلتی احادیث
’’غدیر کے دن حضرت علی r کے بارے میں آپﷺ کے ارشاد {من کنت مولاه فعلي مولاه} پر ایک منافق کی ناگواری اور آسمان سے اس پر پتھر کا برسنا‘‘، پتھر گرنے کا قصہ واہی موضوع ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔