محفل میلاد میں، روحِ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کا اعتقاد، جناب سرور ﷺ پر افتراء محض ہے۔
تفصیل
سوال (۲۴۰) قیام مولد شریف کیا ہے،قیام وعدم قیام کی دلیل چاہئے، اور بعض فرماتے ہیں، وقت قیام روح رسول اللہﷺ کی خودمحفل میں آتی ہے جواب اس کا عطاء ہو ۔
الجواب: اول تو اس محفل مولدمیں جوکہ آج کل رائج ہے،خود کلام ہے، اس میں بہت سی خرابیاں ہیں: أوّلاً ثانیاً ثالثاً رابعاً خامساً أعني ما ذکرت سابقا في المسألة السابقة على السابقة على هذا، فلینظر ثمّه. پھرقیام توسب سےبڑھ کر ہے اور خصوصاًیہ سمجھ کرکہ روح رسول اللہ ﷺ کی، محفل میں تشریف لاتی ہے، اورآپ ﷺ ہمارےقیام سےخوشنود ہوتے ہیں۔
اورخیر، قطع نظر اس سے کہ آپ ﷺ کو اپنےلئےقیام پسندتھایا نہیں، خود اس تشریف آوری کےدعوے پر کوئی دلیل نہیں،کسی آیت سےثابت نہیں،کسی حدیث میں نہیں کوئی دیکھتانہیں، پھرکہاں سےمعلوم ہوا کہ آپ تشریف لاتے ہیں، یہ جناب سرور ﷺ پر افتراءمحض ہے، {من کذب علي متعمدا فلیتبوأ مقعده من النار} الحدیث، جیسانا کہی ہوئےقول کو [كذا في الأصل] آپ ﷺ کی طرف منسوب کرنا حرام ہے، اسی طور پر نا کیا ہوا فعل بھی آپ ﷺ کی جانب منسوب کرنا حرام ہے۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] امدادالفتاویٰ: کتاب ما یتعلق بالحدیث،قیام مولدشریف، ۵/۲۶۳،مکتبہ دارالعلوم، کراچی۔
ملتی جلتی احادیث
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
وصیت نامہ شیخ عبد اللہ، خادم مجاور روضہ مطہرہ، محض کسی کا تراشیدہ ہے۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
مشہور مصرع کہ ”فلک پر دھوم تھی احمد رسول اللہ ﷺ آتے ہیں“، یہ جھوٹ ہے، حدیث ِ بخاری کے خلاف ہے۔