آج کل جو نبی ﷺ کے نقشِ قدم کو لئے پھرتے ہیں ان کا اعتبار نہیں۔
تفصیل
’’سوال: معجزہ قدم شریف یعنی سنگ[پتھر] موم ہو کر نقشِ قدم ہوجانا، چنانچہ بکثرت دیکھا جاتا ہے کہ لوگ لئے پھرتے ہیں، احادیثِ صحیحہ مستندہ سے ثابت ہے یا نہیں؟
جواب: کتبِ احادیث سے تو اس کا پتہ نہیں چلتا، البتہ ’’قصیدہ ہمزیہ‘‘ میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معجزہ نقشِ قدم کا ظاہر ہوا ہے، لیکن آج کل جو لئے پھرتے ہیں ان کا اعتبار نہیں، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : معجزہ قدم شریف ، ص: ۱۶۷، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
امام ابن تیمیہ l ’’مجموع الفتاوی‘‘ (۲۷/ ۷۸)میں فرماتے ہیں : ’’ قدم شریف کا کسی پتھر پر نقش ہوجا نا یہ جھوٹ ہے،گھڑی ہوئی بات ہے‘‘، امام سیوطی l نے ’’الحاوی للفتاوی‘‘ (۲ /۱۰۸)میں لکھا ہے: ’’میں اس کی اصل وسند پر واقف نہیں ہو سکا ہوں،اور نہ ہی کسی ایسے شخص سے واقف ہو سکا ہو ں جس نے کسی بھی حدیث کی کتاب میں اس کی تخریج کی ہو‘‘۔ امام سیوطی l کے اس کلام پر حافظ ابن حجر ہیتمی l نے ’’الفتاوی الحدیثیہ‘‘ (ص:۱۷۷)میں اکتفاء کیاہے،امام سیوطی l نے ’’حقیقہ السنہ والبدعہ‘‘ (ص:۳۵)میں صخرۂ بیت المقدس پر آپﷺ کے نشاناتِ قدم کو بے اصل قرار دیاہے۔
ملتی جلتی احادیث
’’حضرت خاتم النبوت ﷺ کے نیچے پتھر کا موم ہو کر قدم پاک کا نقشہ پتھر پر آجانا‘‘، ایسی کوئی سند اور روایت نظر میں نہیں آئی۔
’’فرشتوں میں قراءت ِقرآن کی صفت نہیں ہے،اس لئے وہ قرآن سننے کے مشتاق ہوتے ہیں‘‘، اس مشہوربات کی کوئی اصل نہیں۔
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
1 ’’جو شخص تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ آگ کو دنیا وآخرت میں اس پر حرام کردیتا ہے 2 جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ کرامًا کاتبین کو حکم دے دیتا ہے کہ اس کے نامۂ اعمال لکھنا بند کردو‘‘، بظاہر ان کی کچھ اصل نہیں ہے۔