’’آپ ﷺ نے فرمایا: آدم e نے بحق محمدﷺ، علی r ، فاطمہ R ، حسن r ، اللہ سے سوال کیا تھا‘‘، یہ روایت من گھڑت ہے۔
باب: انبیاء علیہم السلام
حضرت آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، ایوب اور دیگر انبیاء کے واقعات۔
گروپ: انبیاء و امم
19 روایات
روایت: ”چوتھے آسمان پر حضرت عیسی e بیمار ہیں، آپ ﷺ کاتبسم علاج کیلئے درکار ہے“، یہ مضمون بالکل غلط ہے۔
روایت : ”حضورﷺ نے عیسی e کی نسبت یہ فرمایا کہ اگر ان کو زیادہ یقین ہوتا تو ہوا پر چلتے “، علامہ عراقی l نے اسے منکر کہا ہے۔
روایت: آپ ﷺ کا حضرت الیاس e سے ملاقات کرنا، اور حضرت الیاس e کا امت محمدیہ میں شمولیت کی دعا کرنا۔
”حضرت حوا ؑ کی قبر جدہ میں ہے“، یہ کسی نے گھڑ لیا ہے۔
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
’’جس وقت حضرت ابراہیم e اپنے بیٹے کو ذبح کرچکے تو چھری اوپر پھینک دی، تب پروردگار کا حکم ہوا کہ جو اس چھری کے نیچے گردن جھکادے گا وہ حلال ہے، چنانچہ ٹڈی اور مچھلی نے گردن چھری کے نیچے جھکادی، وہ حلال ہوگئی‘‘،یہ معتبر روایت نہیں ہے۔
روایت: حضرت ایوب e سے ان کی بیماری کے ایام کے بعد پوچھا گیا کہ یہ صحت کا زمانہ اچھا ہے یا وہ بیماری کا زمانہ اچھا تھا؟ حضرت ایوب e نے فرمایا: صحت بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، اور بیماری بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، لیکن ایک عجیب بات ہے کہ جب میں بیمار تھا اور صبح ہوتی تو اللہ رب العزت پوچھتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس بات سے اتنی لذت ملتی تھی کہ پورا دن مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی، اور جب شام ہوتی تو اللہ تعالی پھر عیادت فرماتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ اس سے ساری رات مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی، بیماری تو چلی گئی لیکن اللہ رب العزت کی عیادت کرنے کا لطف اور مزہ مجھے آج بھی یاد آتا ہے۔
روایت:حضرت نوح e کی کشتی میں دیمک کی وجہ سے نقصان کا ہونا اور اس کی حفاظت کے لئے کشتی کے چاروں کونوں پر حضرت ابو بکر r، حضرت عمر r، حضرت عثمان r، حضرت علی r کا نام لکھنا۔