”حضرت حوا ؑ کی قبر جدہ میں ہے“، یہ کسی نے گھڑ لیا ہے۔
تفصیل
فرمایا : حضرت حوا ؑ کی قبر مکہ میں، پہاڑ ”ابو قبیس“ کے پاس ہے، جدہ میں نہیں، جدہ اصل عربی میں ”جدی“ ہے: {طریق واسع في الجبل}. پہاڑ میں کشادہ راستہ کو کہتے ہیں، اس سے بعض نے یہ گھڑ لیا کہ حضرت حوا ؑ کی قبر جدہ میں ہے۔ (عربی ”جدہ “ کے معنی ہیں ”وادی“، اس لئے لوگوں نے اس سے یہ سمجھا)[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت :حضرت حوا ؑ کی قبر پہاڑا ابو قبیس کے پاس ہے ، ۲۶/۲۲۹، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
حافظ ابو جعفر ابن جریر طبری ؒ کی ” تاريخ الرسل والملوك“ (۱/۱۶۱)میں موجود ایک روایت کے مطابق حضرت حوا ؑ کی قبر جبل ابو قبیس میں حضرت آدم کے ساتھ ہے، اور علامہ شہاب الدین احمدخفاجی ؒ (المتوفی:۱۰۶۹ھ)نے ”شفاء الغليل“(ص:۶۹) میں حضرت حوا ؑ کی قبر کے ”جدہ“ میں ہونے کو بے اصل کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
میت کے دفن کر نے کے بعد قبر پر اذان کہنا، بے اصل ہے۔
روایت: ”جنت میں ایک جنت ہے، اس میں نہ حور ہیں اور نہ قصور، صرف یہ ہے: {رب أرني أرني}. اے رب! مجھے دیدار کرائیں، مجھے دیدار کرائیں“، یہ غلط ہے۔
دورانِ نماز حضرت علی r کے بدن سے تیر نکالنے والا مشہور قصہ، بے اصل ہے۔
احادیث میں مذکور حضور ﷺ کے فضائل بیان کرنے چاہئیں، گھڑے ہوئے فضائل بیان نہ کریں۔