التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: انبیاء علیہم السلام

حضرت آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، ایوب اور دیگر انبیاء کے واقعات۔

گروپ: انبیاء و امم

19 روایات

  1. روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔

  2. روایت: ’’اللہ عز وجل نے یوشع بن نون eکی طرف وحی بھیجی: میں آپ کی قوم میں سے چالیس ہزار پسندیدہ اور ساٹھ ہزار شریر لوگوں کو ہلاک کرنے والا ہوں، یوشع بن نون e نے عرض کیا: اے رب! شریر لوگ تو سمجھ میں آتے ہیں، پسندیدہ لوگوں کی کیا وجہ ہے؟ اللہ عز وجل نے فرمایا: وہ میرے غضب کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے، اور وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا، پینا کرتے ہیں‘‘۔

  3. روایت:ایک بچہ کا اپنی ماں کی گود میں حضرت یوسف e کی پاک دامنی کی گواہی دینا، اور حضرت یوسف e کا اس بچے کے جوان ہونے پر اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا، اور اس پر حضرت جبرئیل e کا یہ فرمانا: اللہ کریم اس مومن کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے جس نے پوری زندگی اللہ تعالی کی وحدانیت کی گواہی دی۔

  4. روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: حضرت داؤدe اللہ تعالی کے سامنے چالیس دن روتے رہے اور چالیس دن گزرنے کے بعد کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے؟ اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور فرمایا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں؟‘‘۔

  5. روایت: ’’حضرت موسی e کا ایک واقعہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا: موسی e کے دل میں خیال گزرا کہ اللہ تعالی کبھی سوتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا، جس نے موسی e کو تین دن تک سونے نہ دیا، پھر موسی e کے ایک ایک ہاتھ میں بوتل دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو، یہ ٹوٹیں نہیں، حضرت موسی e انہیں لے کر حفاظت کرنے لگے، لیکن نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے گر کر چورا چورا ہوگئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالی نے مثال بیان کی: اگر اللہ تعالی سو جائیں تو زمین وآسمان نہیں رک سکتے‘‘۔