التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’جس وقت حضرت ابراہیم e اپنے بیٹے کو ذبح کرچکے تو چھری اوپر پھینک دی، تب پروردگار کا حکم ہوا کہ جو اس چھری کے نیچے گردن جھکادے گا وہ حلال ہے، چنانچہ ٹڈی اور مچھلی نے گردن چھری کے نیچے جھکادی، وہ حلال ہوگئی‘‘،یہ معتبر روایت نہیں ہے۔

تفصیل

’’سوال: جس وقت حضرت ابراہیم e  اپنے بیٹے کو ذبح کرچکے تو چھری اوپر پھینک دی، تب پروردگار کا حکم ہوا کہ جو اس چھری کے نیچے گردن جھکادے گا وہ حلال ہے، چنانچہ مَلَخ(ٹڈی)اور مچھلی نے گردن چھری کے نیچے جھکادی وہ حلال ہوگئی، کیا یہ واقعہ سچا ہے؟

جواب: چھری پھینک دینے اور ماہی و مَلَخ [مچھلی اور ٹڈی]کے حلال ہوجانے کی کوئی معتبر روایت نہیں، اور ماہی وملخ کے حلال ہونے کے لئے دلیل:  {أحلت لنا ميتتان}. [ہمارے لئے دو میت حلال ہیں] کافی ہے۔ فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :ذبح کے بغیر مچھلی اور ٹڈی کے حلال ہونے کی من گھڑت روایت،۱۸/۱۶۶ مکتبہ حقانیہ ملتان۔