روایت:حضرت نوح e کی کشتی میں دیمک کی وجہ سے نقصان کا ہونا اور اس کی حفاظت کے لئے کشتی کے چاروں کونوں پر حضرت ابو بکر r، حضرت عمر r، حضرت عثمان r، حضرت علی r کا نام لکھنا۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] كتاب عمدة التحقيق في بشائرآل الصديق:ص:72،مطبعة جمعية المعارف،الطبعة1287هـ .
[2] قصص الأنبياء عليهم الصلاة والسلام:ص:92:ت: إسحاق بن ساؤول، مطبعة بربل،الطبعة 1922ء .
’’قصص الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’...فلما فرغ من بنائها وقع العث فيها، فشكا ذلك إلى الله تع، فأوحى الله إليه، يا نوح! إنه ليس تبقى السفينة على صحتها إلا أن تسمر فيه أربعة مسامير، وتكتب عليها أسماء أصحاب محمد صلعم، وهم: أبو بكر وعمر وعثمان وعلي، ففعل ذلك نوح عم، فصحت السفينة‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت:مال داروں، مصیبت زدہ، نوجوانوں، غلاموں اور فقیروں سے اللہ تعالی کے حقوق کی کوتاہی سے متعلق قیامت کے دن سوال کا ہونا، اور حضرت سلیمان e کا بادشاہت، حضرت ایوب e کا ان کی بیماری،حضرت یوسف e کا خوبصورتی اور غلامی، حضرت عیسی e کا فقر کے باوجود اللہ تعالی کے ذکر سے غافل نہ ہونا۔
روایت: حضرت فاطمہ R کا اپنی اور غیر محرم مردوں کی نگاہ کے چاند پر اکٹھا ہونے کی وجہ سے پہلی تاریخ کا چاند نہ دیکھنا۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’من أراد أن ينظر إلى ميت يمشي على وجه الأرض، فلينظر إلى أبي بكر‘‘. جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ میت کو زمین پر چلتا ہوا دیکھے، تو اسے چاہیئے کہ وہ ابو بکر r کی طرف دیکھے‘‘۔
روایت: ایک صحابی r کا نماز پڑھنے کے بعد فوراً نکل جانا، اور آپﷺ کے پوچھنے پر بتانا کہ گھر میں صرف یہی ایک ہی چادر ہے، لہذا میں گھر جاکر یہ چادر اپنی اہلیہ کو دیتا ہوں اور وہ نماز ادا کرتی ہیں، پھر آپﷺ کا صحابی r کو اپنی چادر عطا کرنا، اور صحابی r کا تاخیر سے گھر پہنچنا، اور اہلیہ کے پوچھنے پر پورا قصہ بتانا، اور صحابی r کی اہلیہ کا یہ کہنا کہ آج آپﷺ کے سامنے اپنے رب کی شکایت کر کے آئے ہو۔
روایت: حضرت ایوب e سے ان کی بیماری کے ایام کے بعد پوچھا گیا کہ یہ صحت کا زمانہ اچھا ہے یا وہ بیماری کا زمانہ اچھا تھا؟ حضرت ایوب e نے فرمایا: صحت بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، اور بیماری بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے، لیکن ایک عجیب بات ہے کہ جب میں بیمار تھا اور صبح ہوتی تو اللہ رب العزت پوچھتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس بات سے اتنی لذت ملتی تھی کہ پورا دن مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی، اور جب شام ہوتی تو اللہ تعالی پھر عیادت فرماتے تھے کہ ایوب تیرا کیا حال ہے؟ اس سے ساری رات مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی، بیماری تو چلی گئی لیکن اللہ رب العزت کی عیادت کرنے کا لطف اور مزہ مجھے آج بھی یاد آتا ہے۔