التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت : ”حضورﷺ نے عیسی e کی نسبت یہ فرمایا کہ اگر ان کو زیادہ یقین ہوتا تو ہوا پر چلتے “، علامہ عراقی l نے اسے منکر کہا ہے۔

تفصیل

”۔۔۔ حاصل عبارت مذکورہ کا یہ ہے کہ صاحبِ احیاء [امام غزالی l] نے نقل کیا کہ نبی ﷺ سے ذکر کیا گیا کہ عیسی e  پانی پر چلتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر ان کو یقین میں اور زیادہ ترقی ہوتی تو ہوا پر چلتے، شارح [علامہ مرتضی زَبِیدی l] نے عراقی l سے نقل  کیا کہ یہ حدیث منکر ہے، یعنی اس  کے  راوی  غیر  ثقہ  نے،  ثقات  کے  خلاف  روایت  کی  ہے ۔

معروف وہ روایت ہے جس کو ابن ابی الدنیا   l نے ” کتاب الیقین“میں بکر بن عبد اللہ مزنی l کا قول کرکے [كذا في الأصل] نقل کیا ہے کہ ایک بار حواریین نے اپنے پیغمبر کو نہ پایا، کسی نے کہا کہ وہ دریا کی طرف گئے ہیں، یہ لوگ ان کو تلاش کر نے دریا کی طرف چلے جب دریا پر پہونچے تو دیکھتے کیا ہیں کہ وہ پانی پر چلے ہوئے آرہے ہیں،پھر ایک مضمون بیان کیا جس میں یہ بھی ہے کہ عیسی e نے فرمایا کہ اگر آدمی کے پاس یقین میں سے ایک  جَو  کے  برابر  بھی  ہو  تو  پانی  پر   چلنے  لگے ۔

شارح [علامہ مرتضی زَبِیدی l] کہتے ہیں کہ نیز ابن ابی الدنیا l اور ابن عساکر l نے فضیل بن عیاض l سے نقل کیا کہ عیسی e سے پوچھا گیا کہ آپ پانی پر کس چیز کے ذریعہ سے چلتے ہیں، آپ e نے فرمایا کہ ایمان اور یقین کے ذریعہ سے،لوگوں نے کہا کہ پس ہم بھی ایمان لائے ہیں جیسا آپ ایمان لائے ہیں، اور ہم بھی یقین رکھتے ہیں جیسا آپ یقین رکھتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ پس چلو،وہ ان کے ساتھ چلے،ایک موج آئی اور وہ سب غرق ہونے لگے، عیسی e نے فرمایا کہ تمہاری کیا حالت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم موج سے ڈر گئے، آپ e نے فرمایا کہ تم آبِ موج  [اصل میں اسی طرح ہے،البتہ ہمارے پاس موجودہ شرح احیاء میں رب الموج لکھا ہے،اور یہی صحیح ہے] سے    کیوں  نہ  ڈر ے  پھر  آپ نے  ان  کو  نکالا،  فقط ۔ 

اس  عبارت  سے  چند  امور  مستفاد  ہوئے :

نمبر ۱: یہ روایت ”احیاء“ کی کہ حضورﷺ نے عیسی e  کی نسبت یہ فرمایا کہ   اگر   ان  کو  زیادہ   یقین  ہوتا   تو  ہوا   پر   چلتے، ثابت  نہیں۔

نمبر۲: خود عیسی e نے اپنے ارشاد میں یقین کی تاثیر بیان فرمائی ہے کہ اس سے پانی پر چل سکتے ہیں،ایک روایت میں مطلق یقین کی، اور  ایک  روایت  میں  اُس  کی {قلت}  کی  تصریح  کے  ساتھ  بھی۔

نمبر ۳: ہَوَا   پر   چلنے   کا  مضمون  کسی  طرح  سے  بھی  کسی  روایت   میں  مذکور  نہیں ۔

نمبر ۴: رسول اللہ ﷺ سے اِن میں سے کوئی مضمون منقول نہیں،  بلکہ یہ حکایت بکر بن عبد اللہ l وفضیل بن عیاض l سے منقول ہے،  یہ  تو  مدلولات  ہیں  اس  عبارت  کے ۔۔۔“[1]۔

حوالہ جات

[1] بوادر النوادر : انسٹھویں حکمۃ، تحقیق الفاظ ومعنی لوزاد یقینہ لمشی علی الہواء (ای عیسی علیہ السلام )، ص:۲۸۳،ادارہ اسلامیات، لاہور۔

واضح رہے کہ حافظ ابو نعیم ؒ نے ”حليۃ الاولياء“(۸/۱۵۶)میں، اور امام بیہقی ؒ نے ”الزہد الكبير“(ص:۳۵۶)میں یہ روایت مرفوعاً مرسلاًتخریج کی ہے،امام بیہقی ؒ  کی عبارت ملاحظہ ہو:

{أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي، أنبأنا أبو عمرو بن حمدان، ثنا مسدد بن قطن قال: أنبأنا أحمد بن إبراهيم الدورقي، ثنا إسحاق، أنبأنا حجاج بن محمد، أنبأنا جرير بن حازم، عن وهيب المكي قال: قال رسول صلى الله عليه وسلم: لو عرفتم الله حق معرفته لعلمتم العلم الذي ليس معه جهل، ولو عرفتم الله حق معرفته لزالت الجبال بدعائكم، وما أتي أحد من اليقين شيئا إلا ما لم يؤت منه أكثر مما أتي، قال معاذ بن جبل: ولا أنت يا رسول الله؟ قال : ولا أنا، فقال معاذ بن جبل: بلغنا أن عيسى ابن مريم عليه السلام كان يمشي على الماء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو زاد يقينا لمشى على الهواء. هذا منقطع، ورواه أيضا المفضل بن غسان الغلابي عن يحيى بن معين عن رجل عن وهيب عن النبي صلى الله عليه وسلم هكذا مرسلا، لم يسم معاذا في متنه}.