روایت: ”چوتھے آسمان پر حضرت عیسی e بیمار ہیں، آپ ﷺ کاتبسم علاج کیلئے درکار ہے“، یہ مضمون بالکل غلط ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ یہ تو حق تعالیٰ کی شان میں دو شعروں کا مختصر بیان تھا، اب اہانتِ انبیاء علیہم السلام کا نمونہ سنئے، ایک شخص نے کہا ہے: ؎
بر آسمان چارم مسیح بیمار ست تبسم تو برائے علاج درکار ست [كذا في الأصل]
(چوتھے آسمان پر حضرت عیسی e بیمار ہیں، آپ کاتبسم علاج کیلئے درکار ہے) کیا شاعر صاحب دیکھنے گئے تھے کہ حضرت مسیح بیمار ہیں؟ غرض یہ مضمون با لکل غلط ہے، عالم عُلوِی میں مرض کا کیا کام،اور حضرت یوسف e کو تو شاعروں نے (نعوذ باللہ) زر خرید بنا رکھا ہے، ان کا ذرا بھی ادب نہیں کرتے، ایک مداح نے حضرت یعقوب e کی بے ادبی کی ہے، مشہور ہے کہ حضرت یعقوب e کی بینائی جاتی رہی تھی،اور ان کے با لکل نابینا ہونے میں اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ بینائی کمزور ہو گئی تھی،کیونکہ اکثر علماء کے نزدیک انبیاء علیہم السلام میں کوئی ظاہری عیب بھی نہیں ہو تا تاکہ لوگوں کو ان سے طبعی نفرت بھی نہ ہو، اور اتباع نہ کر نے کیلئے معمو لی سا بہا نہ بھی نہ ملے، اور اگر نابینا ہو ئے بھی ہوں تو خلقۃً [كذا في الأصل] نابینا نہیں تھے، بلکہ شدتِ غم سے ہو گئے تھے، جس طرح اور عوارض جسمانی و امراض لاحق ہوا کر تے ہیں، پس اگر اور امراض کی طرح یہ مرض ہو بھی گیا ہو تو کیا وہ مکرم نہیں رہے، اور ان کی گستاخی جائز ہوگئی؟ غرض ایک شاعر نے حضور ﷺ کا سراپا لکھا ہے اور سراپا لکھنے کےلیے ایک سیاہی تیار کی ہے اس کے رگڑنے کیلئے چشم یعقوبی کو توبہ توبہ کھرل [پتھر کا ایک خاص برتن جو دواء پیسنے اور حل کرنے کے کام آتا ہے] گر دانا ہے ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : مضامین لغت میں گمراہ شعراء کا غلو ،۳۱/۴۷ ،۴۸،ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
حضرت شبلی l کی جانب اس حکایت کی نسبت غلط ہے۔
جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔
حضرت عمر r کا اپنے بیٹے ابو شحمہ پر حد نافذ کرنے کا مشہور قصہ موضوع وباطل ہے، صحیح واقعہ دوسرا ہے۔
روایت : ”حضرت ہندہ R کو آپ ﷺ نے اپنی زیارت سے منع فرما دیا تھا“، بے اصل ہے۔