التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عبد الرحیم بن واقد خراسانی

المتوفی بعد ۲۰۰ھایک روایت میں تذکرہ

عبد الرحیم بن واقد خراسانی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی عبد الرحیم بن واقد خراسانی (المتوفی بعد ۲۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کلام

حافظ ابن حبان l نے عبد الرحیم بن واقد کو ’’الثقات‘‘[106] میں ذکرکیا ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[107] میں فرماتے ہیں: ’’وفي حديثه غرائب ومناكير، لأنها عن الضعفاء والمجاهيل‘‘. اور اس کی احادیث میں غرائب ومناکیر ہیں، کیونکہ وہ ضعفاء اور مجاہیل سے ہیں۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[108] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[109] میں حافظ خطیب بغدادی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’الإصابة‘‘[110] میں عبد الرحیم بن واقد کے بارے میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعبد الرحيم وأبان متروكان‘‘. اور عبد الرحیم اور ابان دونوں متروک ہیں۔

حوالہ جات

[106] كتاب الثقات:۸/۴۱۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد،الطبعة الأولى۱۳۹۳هـ .

[107] تاريخ مدينة السلام:12/370،رقم:5720،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[108] الضعفاء والمتروکین:۲/۱۰۲،رقم:۱۹۱۹،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ . 

[109] ميزان الاعتدال:۲/۶۰۷،رقم:۵۰۳۸،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[110] الإصابة في تمييز الصحابة:۲/۲۵۱،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ