التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

سلام بن وہب جَنَدی

ایک روایت میں تذکرہ

سلام بن وہب جَنَدی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی سلام بن وہب جَنَدی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[118] میں سلام بن وہب جَنَدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن طاوس، لا يتابع عليه، ولا يعرف إلا به‘‘. ابن طاؤس سے روایت کرتا ہے، اس کی متابعت نہیں کی جاتی، اور یہ اسی سے معروف ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[119] میں سلام بن وہب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن طاوس بخبر منكر، بل كذب‘‘. اس نے ابن طاؤس کے انتساب سے ایک منکر بلکہ جھوٹی خبر روایت کی ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[120] میں سلام بن وہب کو ’’مجهول‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[121] میں سلام بن وہب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن طاووس بخبر موضوع، لا يعرف‘‘. اس نے ابن طاؤس کے انتساب سے ایک من گھڑت خبر روایت کی ہے، اس کی معرفت نہیں ہے۔

حوالہ جات

[118] الضعفاء الكبير:2/162،رقم:670،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[119]  ميزان الاعتدال:2/182،رقم:3358،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[120] ديوان الضعفاء:ص:166،رقم:1689،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[121] المغني في الضعفاء:1/۴۲۴،رقم:2509،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ