اس روایت کی تحقیق سے
روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی سلام بن وہب جَنَدی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[118] میں سلام بن وہب جَنَدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن طاوس، لا يتابع عليه، ولا يعرف إلا به‘‘. ابن طاؤس سے روایت کرتا ہے، اس کی متابعت نہیں کی جاتی، اور یہ اسی سے معروف ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[119] میں سلام بن وہب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن طاوس بخبر منكر، بل كذب‘‘. اس نے ابن طاؤس کے انتساب سے ایک منکر بلکہ جھوٹی خبر روایت کی ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[120] میں سلام بن وہب کو ’’مجهول‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[121] میں سلام بن وہب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن طاووس بخبر موضوع، لا يعرف‘‘. اس نے ابن طاؤس کے انتساب سے ایک من گھڑت خبر روایت کی ہے، اس کی معرفت نہیں ہے۔
حوالہ جات
[118] الضعفاء الكبير:2/162،رقم:670،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .
[119] ميزان الاعتدال:2/182،رقم:3358،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[120] ديوان الضعفاء:ص:166،رقم:1689،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[121] المغني في الضعفاء:1/۴۲۴،رقم:2509،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .