التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عِصْمہ نوح بن ابی مریم فقیہ قاضی مروزی خراسانی الملقب بالجامع واسم ابی مریم یزید بن جَعُونہ

المتوفی۱۷۳ھایک روایت میں تذکرہ

ابو عِصْمہ نوح بن ابی مریم فقیہ قاضی مروزی خراسانی الملقب بالجامع واسم ابی مریم یزید بن جَعُونہ کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عِصْمہ نوح بن ابی مریم فقیہ قاضی مروزی خراسانی الملقب بالجامع واسم ابی مریم یزید بن جَعُونہ (المتوفی۱۷۳ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

امام ابن مبارک l نے وکیع l سے فرمایا: ’’عندنا شيخ، وهو أبو عِصْمة نوح بن أبي مريم، يضع، كما يضع معلى‘‘. ہمارے پاس ایک شیخ ہے، جو ابو عِصْمہ نوح بن ابی مریم ہے، وہ حدیث گھڑتا ہے جیسے معلی (یعنی معلی بن ہلال کوفی) حدیث گھڑتا ہے[123]۔

حافظ ابن حماد l نے نوح بن ابی مریم کو ’’متروك الحديث‘‘کہا ہے[124]۔

حافظ یحیی بن معین l نے نوح بن ابی مریم کو ’’ليس بثقة‘‘  کہا ہے[125]۔

حافظ یحیی بن معین l  نے ایک مقام پر نوح بن ابی مریم کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[126]۔

حافظ یحیی بن معین l ہی ایک اور مقام پر نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، ولا يكتب حديثه‘‘[127]. لیس بشیء ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائےگی۔

حافظ ابو علی نیشاپوری l ، نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان كذابا‘‘[128]. جھوٹا تھا۔

امام احمد بن حنبل l ،نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان أبو عِصْمة يروي أحاديث مناكير، أو منكرات أظنها،قال: لم يكن في الحديث بذاك‘‘[129]. اور ابو عِصْمہ منکر احادیث روایت کرتا تھا، یا میں ان کو منکر سمجھتا ہوں، احمد l نے فرمایا: وہ ’’لم یکن فی الحدیث بذاک‘‘ہے۔

علامہ عباس بن مصعب مروزی l فرماتے ہیں: ’’أبو عِصْمَة نوح بن أبي مريم الجامع كان أبوه أبو مريم مجوسيا، اسمه مابنه، استقضي على مرو، وأبي حنيفة حي، وكتب إليه أبو حنيفة بكتاب موعظة، وذلك الكتاب يتداوله أهل مرو، ثم استقضى مرة [بعد] أخرى بعد موت أبي حنيفة، وكان لقبه أبا يوسف، وإنما سمي الجامع لأنه أخذ الرأي عن أبي حنيفة، وابن أبي ليلى، والحديث عن حجاج بن أرطاة، ومن كان في زمانه، وأخذ المغازي عن محمد بن إسحاق، والتفسير عن الكلبي، ومقاتل، وكان مع ذلك عالما بأمور الدنيا، فسمي نوح الجامع، روى عنه ابن المبارك، وروى عنه شعبة، وأدرك الزهري، وابن أبي مليكة، وكان يدلس عنهما، وكان نزل أولا على الذريق، فلما ولى القضاء فتحول إلى سكة الحية، وقصره باق إلى الآن‘‘[130]. ابو عِصْمہ نوح بن ابی مریم جامع کا والد ابو مریم مجوسی تھا، ان کا نام مابنہ تھا، وہ ابو حنیفہ کی زندگی میں مرْو کے قاضی بنائے گئے، اور ابو حنیفہ l نے ان کو وعظ پر مشتمل ایک خط لکھا، جو اہلِ مرْو میں متداول تھا، پھر ابو حنیفہ l کے انتقال کے بعد دوسری مرتبہ قاضی بنے، اور ابو یوسف l نے ان کو لقب دیا تھا، اور اس کو جامع کا نام اس لئے ملا کہ انہوں نے ابو حنیفہ اور ابن ابی لیلی سے فقہ، حجاج بن ارطاۃ اور جو ان کے زمانے میں تھے ان سے حدیث حاصل کی، اور محمد بن اسحاق سے مغازی، کلبی اور مقاتل سے تفسیر حاصل کی، اور اس کے ساتھ وہ دنیاوی معاملات کو بھی جانتے تھے، سو ان کو نوح جامع کا نام ملا، ان سے ابن مبارک نے روایت کی ہے، اور شعبہ نے ان سے روایت کی ہے، اور اس نے زہری اور ابن ابی ملیکہ کو پایا ہے، اور ابو عِصْمہ نے پہلے ذریق میں رہائش اختیار کی، جب ان کو قضاء سونپی گئی تو سکۃ الحیہ منتقل ہوگئے، اور ان کا محل اب بھی باقی ہے۔

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن علی بن حسن بن شقیق مروزی l فرماتے ہیں: ’’سمعت أبي يقول: كان أبو عِصْمَة صحيح الكتاب إلا أنه ابتلي بالقضاء، ولما قال وكيع للعباس بن مصعب: لم يرو عنه ابن المبارك، قال له: حدثني عبد العزيز بن النضر، ثنا ابن المبارك، عن أبي عِصْمَة، عن حماد، عن إبراهيم في الصيد إذا قطع بنصفين، قال: يؤكل كله، فقال وكيع: طولت، قال: فقلت له: بل جودت، وعن سفيان بن عيينة، قال: كنت أختلف أنا وأبو عِصْمة إلى الزهري‘‘[131]. میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا ہے کہ ابو عِصْمہ صحیح الکتاب ہے، الا یہ کہ وہ قضاء میں مبتلاء ہوئے ہیں، اور جب وکیع نے عباس بن مصعب سے کہا کہ ان سے ابن مبارک نے روایت نہیں کی، تو عباس نے وکیع سے کہا: ’’حدثنی عبد العزيز بن النضر، ثنا ابن المبارك، عن ابی عِصْمہ، عن حماد، عن ابراہیم‘‘کی سند سے شکار کے بارے میں جب اس کے دو حصے ہوجائیں منقول ہے کہ ابراہیم نے فرمایا: یہ سب کھایا جائے گا، وکیع نے کہا: آپ نے بات لمبی کر دی ہے، عباس کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کہا: بلکہ میں نے عمدہ بات کہی ہے، اور سفیان بن عیینہ سے مروی ہے کہ میں اور ابو عِصْمہ، زہری کے پاس آتے جاتے تھے۔

حافظ ابو عبد الرحمن علی بن حسن بن شقیق مروزی l فرماتے ہیں: ’’كنت مع سفيان بن عيينة في المسجد الحرام قاعدا، فقلت له: يا أبا محمد! حديث حميد، عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الحيض، قال: وما هو؟ فقلت: إن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أقل الحيض ثلاثة أيام، وأكثره عشرة أيام، وما بين الحيضتين خمسة عشر. فقال: من يروي لكم هذا عن حميد؟ فقلت: أبو عِصْمَة نوح بن أبي مريم، عن حميد، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، فقال ابن عيينة بيده هكذا: يا معشر من حضر! هلموا، قال: فجاءوا فأحاطوا بنا، قال علي: فقلت في نفسي: ما أرى إلا قد جلبت على نفسي شرا كثيرا، قال لي: يا علي! حدثهم بهذا الحديث، فقلت: يا أبا محمد! إن رأيت أن تعفيني من هذا، فقال: لا، فقلت: أخبرنا أبو عِصْمَة، قال: حدثني حميد، عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أقل الحيض ثلاثة أيام، وأكثره عشرة أيام، وما بين الحيضتين خمسة عشر، فقال ابن عيينة: يا معشر من حضر! من يعذرني من هذا الخراساني؟ يروي عن حميد شيئا لم يخلقه الله، حميد يعد حروف حديثه في المثل، وسفيان الثوري كان من أطلب الناس لهذه الأصول، وحماد بن سلمة حميد خاله، ونحن أيضا قد لقينا حميدا، يا علي! من ها هنا أتيتم‘‘[132].

میں سفیان بن عیینہ کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا تھا، میں نے ان سے کہا: اے ابو محمد! حدیثِ حمید، عن انس بن مالک، عن النبی ﷺ جو حیض سے متعلق ہے، سفیان بن عیینہ نے کہا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: نبی ﷺ کا ارشاد ہے: حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے، اور اس کی اکثر مدت دس دن ہے، اور دو حیض کے درمیان پندرہ دن ہیں، سفیان بن عیینہ نے کہا: تمہیں حمید کے انتساب سے یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ابو عِصْمہ نوح بن ابی مریم، عن حمید، عن انس، عن النبی ﷺ، ابن عیینہ نے ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا: حاضرین! آجاؤ، (حافظ ابو عبد الرحمن) علی l فرماتے ہیں: لوگ آکر ہمارے اردگرد کھڑے ہوگئے، علی l فرماتے ہیں: میں نے اپنے جی میں کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے اپنی ذات کےلئے بڑی برائی تیار کرلی ہے، سفیان نے مجھ سے کہا: ان کو یہ حدیث بیان کرو، میں نے کہا: اے ابو محمد! اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اس سے معاف رکھیں، سفیان نے کہا: نہیں، میں نے کہا: مجھے ابو عِصْمہ نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ مجھے حمید نے انس r سے بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے، اور اس کی اکثر مدت دس دن ہے، اور دو حیض کے درمیان پندرہ دن ہیں، ابن عیینہ نے کہا: اے حاضرین کی جماعت! اس خراسانی (یعنی نوح بن ابی مریم) کے مقابلہ میں میرے عذر کا اظہار کون کرے گا؟ یہ حمید سے ایسی چیز روایت کر رہا ہے، جس کو اللہ تعالی نے وجود ہی نہیں بخشا، حمید کی احادیث کے حروف مثال میں شمار ہوتے ہیں، اور سفیان ثوری لوگوں میں ان اصول کو سب سے زیادہ طلب کرنے والا ہے، اور حمید، حماد بن سلمہ کا ماموں ہے، اور ہم بھی حمید سے ملے ہیں، اے علی! تم (بھی)وہیں سے آئے ہو۔

حافظ ابو یعلی خلیلی l نے ’’الإرشاد‘‘[133] میں یہ حکایت نقل کی، جس کے آخر میں ہے: ’’قد صح عندنا ما قالوا: إنه كذاب‘‘. محدثین کا فرمانا کہ نوح کذاب ہے، یہ ہمارے نزدیک صحیح ہے۔

حافظ ابو عمار حسین بن حریث مروزی l فرماتے ہیں: ’’قيل لأبي عِصْمة نوح بن أبي مريم المروزي: من أين لك عن عكرمة، عن ابن عباس في فضائل القرآن سورة سورة، وليس عند أصحاب عكرمة هذا؟ فقال: إني رأيت الناس أعرضوا عن القرآن، واشتغلوا بفقه أبي حنيفة، ومغازي ابن إسحاق، فوضعت هذا الحديث حسبة‘‘[134]. ابو عِصْمہ نوح بن ابی مریم مروزی سے پوچھا گیا کہ بطریقِ عکرمہ، عن ابن عباس q قرآن کی ایک ایک سورت کی فضیلت آپ کے پاس کہاں سے آئی ہے، حالانکہ اصحابِ عکرمہ کے پاس یہ نہیں ہے؟ ابو عِصْمہ نے کہا: میں نے دیکھا کہ لوگ قرآن سے اعراض برت کر ابو حنیفہ کی فقہ، اور ابن اسحاق کی مغازی میں مشغول ہوگئے ہیں، چنانچہ میں نے ثواب کی امید پر یہ حدیث گھڑ لی ہے۔

حافظ ابن اثیر l  نے ’’جامع الأصول‘‘[135] میں، حافظ ابن صلاح l نے ’’مقدمه‘‘[136] میں، حافظ جمال الدین زیلعی l نے ’’تخريج أحاديث الكشاف‘‘[137] میں، حافظ بدر الدین عینی l نے ’’عمدة القاري‘‘[138] میں، حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الكافي الشاف‘‘[139] میں اور علامہ لکھنوی l نے ’’ظفر الأماني‘‘[140] میں حافظ ابو عمار مروزی l کی اس حکایت کو نقل کیا ہے۔

امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[141] میں نوح بن ابی مریم کو ’’ذاهب الحديث جدا‘‘  کہا ہے۔

امام بخاری l ’’التاريخ الصغير‘‘[142] میں نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ولم يصح حديثه‘‘. اور اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[143] میں نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’سقط حديثه‘‘. اس کی حدیث ساقط ہے۔

امام مسلم l نے ’’الكنى والأسماء‘‘[144] میں نوح بن ابی مریم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو زرعہ l نے نوح بن ابی مریم کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[145]۔

حافظ ابو حاتم l نے نوح بن ابی مریم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[146]۔

حافظ ابو حاتم l نے ایک مقام پر نوح بن ابی مریم کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[147]۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[148] میں نوح بن ابی مریم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، ولا مأمون‘‘[149]. لیس بثقہ ہے، ولا مامون ہے۔

نیز امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:’’ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[150]. لیس بثقہ ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائےگی۔

امام نسائی l ہی نوح بن ابی مریم کے بارےمیں فرماتے ہیں: ’’سقط حديثه‘‘[151]. اس کی حدیث ساقط ہے۔

علامہ ابو رجاء ابن حمدویہ سِنْجی l فرماتے ہیں: ’’غلب عليه الإرجاء وكلام أهل الرأي، ولم يكن بمحمود الرواية‘‘[152]. اس پر ارجاء اور اہلِ رائے کے کلام کا غلبہ تھا، اور یہ محمود الروایہ نہیں تھا۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l ، نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، عنده أحاديث بواطيل‘‘[153]. متروک الحدیث ہے، اس کے پاس باطل احادیث ہیں۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[154] میں نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان ممن يقلب الأسانيد، ويروي عن الثقات ما ليس من حديث الأثبات، لا يجوز الاحتجاج به بحال‘‘. اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جو اسانید میں قلب کرتے ہیں، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی احادیث نقل کرتے ہیں جو اثبات کی حدیث میں سے نہیں ہوتیں، اس سے کسی بھی حالت میں احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’نوح الجامع جمع كل شيء إلا الصدق‘‘[155]. نوح جامع نے سچ کے سوا ہر چیز کو جمع کیا ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[156] میں نوح بن ابی مریم کی چند روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولأبي عِصْمَة هذا غير ما ذكرت، وعامة ما يرويه لا يتابع عليه، وقد روى عنه شعبة، كما ذكرت هذا الحديث في الدعاء، وهو مع ضعفه يكتب حديثه‘‘. اور ابو عِصْمہ کی میری ذکرکردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور عام طور پر یہ جو روایت کرتا ہے اس کی متابعت نہیں کی جاتی، اور اس سے شعبہ نے روایت کیا ہے جیسا کہ میں نے یہ حدیث دعا میں ذکر کی ہے(یعنی سابقہ وہ حدیث  جس میں شعبہ،نوح سے روایت کر رہے ہیں)، اور باوجود ضعف کے اس کی حدیث لکھی جائےگی۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[157] میں سلم بن سالم بلخی کے ترجمہ میں چند احادیث نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’وهذان الحديثان لعل البلاء فيهما من نوح بن أبي مريم، وهو أبو عِصْمَة المروزي قاضيها، فإنه أضعف من سلم بن سالم‘‘. اور ان دونوں حدیثوں میں بلاء شاید نوح بن ابی مریم کی جانب سے ہے، اور وہ ابو عِصْمہ مروزی ہے، وہاں کا قاضی ہے، کیونکہ نوح بن ابی مریم بمقابلہ سلم بن سالم کے زیادہ ضعیف ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[158] میں نوح بن ابی مریم کے ترجمہ میں ایک حدیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’وهذا يعرف بحجاج بن أرطاة، عن محمد بن المنكدر، وأبو عِصْمَة قد رواه أيضا عن المنكدر [ كذا فيه، والصحيح: ابن المنكدر]، ولعله سرقه منه‘‘. اور یہ حدیث حجاج بن ارطاۃ، عن محمد بن منکدر سے معروف ہے، اور اسے ابو عِصْمہ نے بھی ابن منکدر سے روایت کیا ہے، شاید ابو عِصْمہ نے اسے اس سے سرقہ کیا ہے۔

امام دار قطنی l نے اپنی ’’سنن‘‘[159] میں ایک روایت کے تحت نوح بن ابی مریم کو ’’ضعيف الحديث، متروك‘‘ کہا ہے۔

امام ابو احمد حاکم l نے اسے ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[160]۔

امام حاکم l ’’المدخل‘‘[161] میں نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ولقد كان جامعا، رزق من كل شيء حظا إلا الصدق، فإنه حرمه، نعوذ بالله من الخذلان‘‘. اور یہ جامع تھا، اسے ہر چیز میں سے ایک حصہ دیا گیا سوائے سچ کے، کیونکہ اللہ نے ا سے سچ سے محروم رکھا ہے، ہم ایسی رسوائی سے اللہ تعالی کی پناہ میں آتے ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[162] میں نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان جامعا في الخطأ والكذب، لا شيء‘‘. خطا اور جھوٹ میں جامع تھا، لاشیء ہے۔

حافظ ابو سعید نقاش l ، نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى الموضوعات‘‘[163]. اس نے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں۔

حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[164] میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، أجمعوا على ضعفه، وقصته مشهورة، روى عنه شداد بن حكيم، وروى عن حميد أحاديث منكرة، لا يتابع عليها‘‘. ضعیف ہے، اس کے ضعف پر سب کا اتفاق ہے، اور اس کا قصہ مشہور ہے، اس سے شداد بن حکیم نے روایت کیا ہے، اور اس نے حمید کے انتساب سے ایسی منکر احادیث روایت کی ہیں کہ جن کی متابعت نہیں کی جاتی۔

حافظ ابن حزم اندلسیl ’’المحلى‘‘[165] میں فرماتے ہیں: ’’وأبو عِصْمَة كذاب، مشهور بوضع الحديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم‘‘. اور ابو عِصْمَہ کذاب ہے، رسول اللہ ﷺ پر حدیث گھڑنے میں مشہور ہے۔

امام بیہقی l ’’الخلافيات‘‘[166] میں فرماتے ہیں: ’’أبو عِصْمَة نوح بن أبي مريم أقر على نفسه بالكذب، وهو صدوق في إقراره بذلك، فإن الكذب ظاهر على روايته، ولا يخفى على من رزق الفهم‘‘. ابو عِصْمہ نوح بن ابی مریم نے اپنی ذات کے خلاف بذاتِ خود جھوٹ کا اقرار کیا ہے، اور وہ اپنے اس اقرار میں سچا ہے، کیونکہ اس کی روایات میں جھوٹ ظاہر ہے، اور جسے فہم سے نوازا گیا ہو اس پر یہ مخفی نہیں ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستغناء‘‘[167] میں نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو عندهم متروك الحديث‘‘. یہ محدثین کے نزدیک متروک الحدیث ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[168] میں ایک روایت کے تحت نوح بن ابی مریم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l نے ’’بيان الوهم‘‘[169] میں نوح بن ابی مریم کو ’’متروك‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن اثیر l نے ’’جامع الأصول‘‘[170] میں نوح بن ابی مریم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ جمال الدین زیلعی l نے ’’نصب الراية‘‘[171] میں ایک حدیث کے تحت ابو عِصْمہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن ملقن lنے ’’البدر المنير‘‘[172] میں ایک حدیث  کے تحت ابو عِصْمہ کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

حافظ شمس الدین ابن عبد الہادیl نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[173] میں نوح بن ابی مریم کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[174]  اور ’’المغني‘‘[175] میں نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ابو عِصْمہ کو ’’المغني‘‘[176] میں’’أحد المتروكين‘‘، ’’ديوان‘‘[177] میں ’’متروك‘‘، اور ’’العبر‘‘[178] میں’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’تلخيص الموضوعات‘‘[179] میں ایک حدیث کے تحت  فرماتے ہیں: ’’من صنعة نوح الجامع‘‘. یہ نوح جامع کی کاریگری ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[180] میں ایک روایت کے تحت نوح بن ابی مریم کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l’’التقريب‘‘[181] میں فرماتے ہیں: ’’ويعرف بالجامع لجمعه العلوم، لكن كذبوه في الحديث‘‘. اور یہ جامع سے معروف تھا، کیونکہ اس نے علوم جمع کئے تھے، لیکن محدثین نے اس کو حدیث میں جھوٹا قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الدراية‘‘[182] میں ابو عِصْمہ کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه‘‘[183] میں نوح بن ابی مریم کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’كذاب، وضاع‘‘. کذاب ہے، وضاع ہے۔

علامہ لکھنوی l ’’الفوائد‘‘[184] میں نوح بن ابی مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو وإن كان فقيها جليلا إلا أنه مقدوح فيه عند المحدثين، حتى قالوا: إنه وضاع‘‘. یہ اگرچہ بڑے فقیہ تھے، مگر محدثین کے نزدیک یہ مجروح ہیں، حتی کہ محدثین نے اسے وضاع کہا ہے۔

حوالہ جات

[123] التاريخ الكبير:7/272،رقم:11065،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ . وكذا في التاريخ الصغير للبخاري:2/165،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[124] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۲۹۳،رقم:۱۹۵۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[125] معرفة الرجال:1/۶۳،رقم:۱۱۰،ت:محمد كامل القصارمجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .

[126] انظرالكامل في ضعفاء الرجال:۸/۲۹۳،رقم:۱۹۵۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[127] انظرالضعفاء والمتروکین لابن الجوزي:۳/167،رقم:3557،ت:أبو الفداء عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .  

[128] انظر إكمال تهذيب الكمال:12/9۶،رقم:4885،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[129] كتاب العلل ومعرفة الرجال:۳/437،رقم:5860،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية1422هـ .

[130] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۲۹2،الرقم:۱۹۷۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[131] انظر إكمال تهذيب الكمال:12/97،رقم:4885،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[132] الخلافيات بين الإمامين الشافعي وأبي حنيفة وأصحابه:۱/۵47،رقم:۹۹۲،الروضة للنشر والتوزيع ـ القاهرة، الطبعة الأولى1436هـ .

[133] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:2/۹۰۲،رقم:2۳۱،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .

[134] انظر الموضوعات لابن الجوزي:1/41،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفيةـ المدینة المنورة، الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ . وكذا في المدخل إلى کتاب الإكليل:ص:54،رقم:283،ت:فؤاد عبد المنعم أحمد، دار الدعوة ـ الإسكندرية . وكذا في الخلافيات بين الإمامين الشافعي وأبي حنيفة وأصحابه:2/447،رقم:1883، الروضة للنشر والتوزيع ـ القاهرة، الطبعة الأولى1436هـ .

[135] جامع الأصول في أحاديث الرسول:1/137،ت:عبد القادر الأرناؤوط،مكتبة دار البيان،الطبعة۱۳89هـ .

[136] معرفة أنواع علم الحديث:ص:207،ت:عبد اللطيف الهميم، وماهر ياسين الفحل،دار الكتب العلمية ـ  بيروت، الطبعة الأولى1423هـ .

[137] تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في تفسير الكشاف:4/343،ت:سلطان بن فهد،دار ابن خزيمة ـ  الرياض، الطبعة الأولى1414هـ  .

[138] عمدة القاري:2/226،ت:عبد الله محمود محمد عمر،دار الكتب العلمية ـ  بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[139]الكافي الشاف في تخريج أحاديث الكشاف:ص:09،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[140] ظفر الأماني بشرح مختصر السيد الشريف الجرجاني:ص:446،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الثالثة۱۴16هـ .

[141] التاريخ الكبير:۸/۷،رقم:۱۱۷۲۱،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[142] التاريخ الصغير:2/210،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[143] أحوال الرجال:ص:3۴۵،رقم:3۸۰،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[144] الكنى والأسماء:ص:643،رقم:2613،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ  .

[145] انظرالجرح والتعديل:۸/۴۸۴،رقم:۲۲۱۰،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[146] الجرح والتعديل:۸/۴۸۴،رقم:۲۲۱۰،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[147] انظرقبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/337،رقم:834،ت:أبو عمرو الحسيني بن عمر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .

[148] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۳۶،رقم:۶۲۱،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .

[149] انظرتهذيب التهذيب:10/488،رقم:876 ،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[150] انظرتهذيب التهذيب:10/488،رقم:876 ،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[151] انظرتهذيب التهذيب:10/488،رقم:876 ،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[152] انظر إكمال تهذيب الكمال:12/9۵،رقم:4885،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[153] انظرتهذيب التهذيب:10/488،رقم:876 ،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[154] المجروحين:3/48،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[155] انظرتهذيب الكمال:30/61،رقم:6495،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴13هـ .

[156] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۲۹۹،رقم:۱۹۷۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[157] الكامل في ضعفاء الرجال:۴/۳۴۹،رقم:۷۷۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[158] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۲۹7،رقم:۱۹۷۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[159]  سنن الدار قطني:2/۳۲۱،رقم:1605،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .

[160] انظر إكمال تهذيب الكمال:12/97،رقم:4885،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[161] المدخل إلى الصحيح:ص:217،رقم:208،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[162] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/84،رقم:251،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[163] انظرتهذيب التهذيب:10/488،رقم:876 ،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[164] الإرشاد فى معرفة علماءالحديث:3/901،رقم:824،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .

[165] المحلى بالآثار:6/488،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[166] الخلافيات بين الإمامين الشافعي وأبي حنيفة وأصحابه:4/68،رقم:2845،الروضة للنشر والتوزيع ـ القاهرة، الطبعة الأولى1436هـ .

[167] الاستغناء في معرفة المشهورين:۲/۸۴۵،رقم:۹۹۲،ت:عبد الله مرحول السوالمة،دار ابن تيمية ـ الرياض، الطبعة الأولى1405هـ .

[168] ذخيرة الحفاظ:ص:۱۹۵۹،رقم:۴۵۰۴،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[169] بيان الوهم والايهام الواقعين في كتاب الأحكام:3/210،رقم:928،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[170] جامع الأصول في أحاديث الرسول:۱۲/956،ت:بشير محمد عيون،دار الفكرـ بیروت،الطبعة۱۳89 هـ .

[171] نصب الراية:۱/۱۵۴،رقم:۶۱۴،ت:محمد عوامة،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .

[172] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:2/۶39،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .

[173] تنقیح التحقیق في أحاديث التعليق:1/376،ت:سامي بن محمد وعبد العزيز بن ناصر،أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى1428هـ .

[174] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/327،رقم:5894،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى ۱۴۱۳هـ .

[175] المغني في الضعفاء:2/466،رقم:6684،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[176] المغني في الضعفاء:2/۶۰۰،رقم:۷۶۱۶،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[177] ديوان الضعفاء:ص:۴۶۴،رقم:۴۹۸۵،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[178] العبر في خبر من غبر:1/204،ت:أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1405 هـ .

[179] تلخيص كتاب الموضوعات: ص:۱۶۴،رقم:۳۶۳،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[180] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:2/124،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .

[181] تقريب التهذيب:ص:۵۶۷،رقم:۷۲۱۰،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[182] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:2/۴۸،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .

[183] تنزيه الشريعة:۱/122،رقم:21،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[184] الفوائد البهیة في تراجم الحنفیة:ص:363،رقم:490،دار أرقم ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴18هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ