اس روایت کی تحقیق سے
روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو حفص اغلب بن تمیم بن نعمان کندی مسعودی بصری شَعْوَذِی (المتوفی ما بین ۱۷۱– ۱۸۰ھ [39]) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l نے اغلب بن تمیم کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[40]۔
حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام پر اغلب بن تمیم کو ’’لا شيء‘‘ کہا ہے[41]۔
نیز حافظ یحیی بن معین l ہی نے ایک دوسرے مقام پر اغلب بن تمیم کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[42]۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[43]اور ’’التاريخ الصغير‘‘[44] میں اغلب بن تمیم کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام ابو داؤد l نے اغلب بن تمیم کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[45]۔
حافظ ابو بکر بزار l نے ’’مسند البزار‘‘[46] میں ایک روایت کے تحت اغلب بن تمیم کو ’’ليس بالحافظ‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[47] میں اغلب بن تمیم کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[48] میں اغلب بن تمیم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، يروي عن الثقات ما ليس من حديثهم، حتى خرج عن حد الاحتجاج به لكثرة خطئه‘‘. منکر الحدیث ہے، ثقات کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کرتا ہے جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہوتیں، حتی کہ اپنی کثرت خطا کی وجہ سے احتجاج کی حد سے نکل گیا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[49] میں اغلب بن تمیم کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث التي أمليتها مع أحاديث له سواها عامتها غير محفوظة، إلا أنه من جملة من يكتب حديثه، وله أحاديث غير ما ذكرته، ولم أجد له فيما يرويه أنكر من هذه الأحاديث التي أمليتها‘‘. اور یہ احادیث جو میں املاء کروا چکا ہوں ساتھ ان احادیث کے جو ان احادیث کے علاوہ ہیں ان میں اکثر غیر محفوظ ہیں، مگر یہ من جملہ ان روات میں سے ہے جن کی حدیث کو لکھا جائے گا، اور میری ذکرکردہ احادیث کے علاوہ اس کی اور احادیث بھی ہیں، اور اس کی روایت کردہ احادیث میں جو احادیث میں املاء کروا چکا ہوں، اس سے بڑھ کر منکر احادیث مجھے نہیں ملیں۔
حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي‘‘[50] میں اغلب بن تمیم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[51] میں ایک روایت کے تحت اغلب بن تمیم کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’المقتنى‘‘[52] میں اغلب بن تمیم کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[53] میں ایک روایت کے تحت اغلب بن تمیم کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’القول المسدد‘‘[54] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وأغلب شبيه بعُمارة بن زاذان في الضعف‘‘. اور اغلب ضعف میں عُمارہ بن زاذان کے مشابہ ہے۔
حوالہ جات
[39] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘میں اغلب بن تمیم بن نعمان کندی کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال171ھ سے 180ھ کے درمیان ہوا ہے۔ (التاريخ الصغير:2/۱۷۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ) .
[40] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/102،رقم:3513،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[41] انظرالجرح والتعديل:2/349،رقم:1323،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .
[42] انظرلسان المیزان:2/216،رقم:1310،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[43] التاريخ الكبير:2/57،رقم:1720،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[44] التاريخ الصغير:2/۱97،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[45] سؤالات أبي عبيد الآجري:۲/۲۲،رقم:۹۹۹،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[46] البحر الزخارالمعروف بمسند البزار:۱۳/۳۶۰،رقم:۷۰۰۴،ت:عادل بن سعد،مکتبة العلوم والحکم ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۲۶هـ..
[47] الضعفاء والمتروكين:ص:156،رقم:61،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[48] المجروحين :1/175،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[49] الكامل:2/122،رقم:229،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[50] الأسامي والكنى:2/265،رقم:1497،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[51] ذخيرة الحفاظ:ص:۲۳۷۲،رقم:۵۵۰۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[52] المقتنى في سرد الكنى:1/193،رقم:1675،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[53] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:1/328،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[54] القول المسدد في الذب عن المسند للإمام أحمد:ص:24،رقم:7،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1401هـ .