اس روایت کی تحقیق سے
روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو ہذیل مَخْلَد بن عبد الواحد بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[28] میں ابو ہذیل مَخْلَد کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’في إسناده نظر‘‘. اس کی اسناد میں نظر ہے۔
اس کے بعد حافظ عقیلی l نے زیر بحث روایت تخریج کی ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے مَخْلَد بن عبد الواحد کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[29]۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[30] میں مَخْلَد بن عبد الواحد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث جدا، ينفرد بأشياء مناكير لا تشبه حديث الثقات، فبطل الاحتجاج به فيما وافقهم من الروايات‘‘. منکر الحدیث جداً ہے، ایسی منکر اشیاء لانے میں متفرد ہے جو ثقات کی حدیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، اس سے احتجاج باطل ہے ان روایات میں جن میں اس نے ان کی موافقت کی ہو۔
حافظ ابو الفتح ازدی l ، مَخْلَد بن عبد الواحد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كذاب، يضع الحديث‘‘[31]. جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے۔
حافظ ابن ابی حاتمl نے ’’الجرح والتعديل‘‘[32] میں مَخْلَد بن ہذیل عبدی کے نام سے ترجمہ قائم کرکے زیر بحث روایت نقل کرکے سکوت فرمایا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’معرفة التذكرة‘‘[33] میں ایک روایت کے تحت مَخْلَد بن عبد الواحد بصری کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[34] میں فرماتے ہیں: ’’له مناكير‘‘. اس کی مناکیر ہیں۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[35] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘. محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’وعن عطاء بن أبي ميمونة، عن زِر بن حُبَيش، عن أبي بن كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم بذاك الخبر الطويل الباطل في فضل السور، فما أدري من وضعه إن لم يكن مخلد افتراه ‘‘. اس نے عطاء بن ابی میمونہ، عن زِرّ بن حُبَیش، عن ابی بن کعب r، عن النبی ﷺ کے طریق سے سورتوں کے فضائل میں یہ طویل باطل خبر روایت کی ہے، مجھے معلوم نہیں کہ اسے کس نے گھڑا ہے، اگر اسے مخلد نے نہ گھڑا ہو۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[37] میں اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[38] میں حافظ ذہبیl کے درج بالا قول پر اعتماد کرتے ہوئے مَخْلَد کو متہم بالوضع کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
حوالہ جات
[28] الضعفاء الكبير:4/231،رقم:1825،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[29] الجرح والتعديل:8/348،رقم:1593،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .
[30] المجروحين :3/43،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[31] الضعفاء والمتروكين:3/111،رقم:3268،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[32] الجرح والتعديل:۸/۳۴۹،رقم:۱۶۰۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[33] كتاب معرفة التذكرة في الأحاديث الموضوعة:ص:189،رقم:656،ت:عماد الدين أحمد حيدر،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[34] المغني في الضعفاء:2/394،رقم:6140،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[35] ديوان الضعفاء:ص:382،رقم:4063،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[36] ميزان الاعتدال:۳/۸۳،رقم:۸۳۹۰ ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[37] الكشف الحثيث:۲۵۵،رقم:۷۶۰،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربيةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۷هـ .
[38] تنزيه الشريعة:1/117،رقم:320،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .