التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

سعید بن مسلمہ بن ہشام بن عبد الملک بن مروان اموی قرشی

المتوفی بعد ۲۰۰ھایک روایت میں تذکرہ

سعید بن مسلمہ بن ہشام بن عبد الملک بن مروان اموی قرشی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی سعید بن مسلمہ بن ہشام بن عبد الملک بن مروان اموی قرشی (المتوفی بعد ۲۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l نے سعید بن مسلمہ کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[58]۔

حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام پر سعید بن مسلمہ کے بارے میں ’’ليس حديثه بشيء‘‘ کہا ہے[59]۔

نیز حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’كان سعيد بن مسلمة عنده كتاب عن منصور، فقال له رجل: سمعت هذا الكتاب من منصور؟ فقال: حتى يجيء ابني فأسأله‘‘[60]. سعید بن مسلمہ کے پاس منصور سے ایک کتاب تھی، اس سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ کتاب منصور سے سنی ہے؟ تو سعید بن مسلمہ نے کہا: میرا بیٹا آجائے، میں ان سے پوچھتا ہوں۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[61] میں سعید بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن إسماعيل بن أمية، فيه نظر، يروي عن جعفر بن محمد، عن أبيه،  عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم، وعن عبد الله بن حسن، عن أبيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم مناكير‘‘. یہ اسماعیل بن امیہ سے روایت کرتا ہے، اس میں نظر ہے، جعفر بن محمد، عن ابیہ، عن جدہ، عن النبی ﷺ، اور عبد اللہ بن حسن، عن ابیہ، عن جدہ، عن النبی ﷺ کے طریق سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

امام بخاری l نے ’’الضعفاء‘‘[62] میں سعید بن مسلمہ کو ’’منكر‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو حاتم l ، سعید بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بقوي، هو ضعيف الحديث، منكر الحديث‘‘[63]. لیس بقوی ہے، یہ ضعیف الحدیث ہے، منکر الحدیث ہے۔

حافظ ابو حاتم l نے ایک حدیث کو باطل فرما کر سعید بن مسلمہ کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[64]۔

نیز حافظ ابو حاتم l ایک دوسرے مقام پر ایک حدیث کو باطل کہہ کر فرماتے ہیں: ’’وسعيد ضعيف الحديث، أخاف أن يكون أدخل له‘‘[65]. سعید ضعیف الحدیث ہے، اور مجھے اندیشہ ہے کہ ان پر یہ حدیث داخل کر دی گئی ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[66] میں سعید بن مسلمہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l نے سعید بن مسلمہ کو ’’صدوق، منكر الحديث‘‘ کہا ہے[67]۔

حافظ ابن حبان l نے سعید بن مسلمہ کو ’’الثقات‘‘[68] میں ذکرکیا ہے۔

نیز حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[69] میں سعید بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث جدا، فاحش الخطأ في الأخبار‘‘. منکر الحدیث جداً ہے، اخبار میں فاحش الخطا ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[70] میں سعید بن مسلمہ کی دیگر چند روایات ذکرکرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولسعيد عن إسماعيل بن أمية نسخة، وعندي عن غير واحد عن سعيد، ما وجدت فيها ما لم يتابع عليه، غير ما ذكرت من حديث ذكر فيه أبي بكر وعمر، وله عن الأعمش وغيره من الحديث ما لم أجد أنكر مما ذكرته، وأرجو أنه ممن لا يترك حديثه، ويحتمل في رواياته، فإنها مقاربة‘‘. اور سعید کے پاس اسماعیل بن امیہ کے طریق سے ایک نسخہ ہے، اور میرے پاس یہ متعدد افراد، عن سعید کے طریق سے ہے، میں نے اس میں کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں ان کی متابعت نہ ہوئی ہو، سوائے ان احادیث کے جن میں ابو بکر r اور عمر r کا ذکر ہے، اور اس کی اعمش وغیرہ کی حدیث میں میری ذکر کردہ احادیث سے بڑھ کر مجھے کوئی منکر حدیث نہیں ملی، اور مجھے امید ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی حدیث کو ترک نہیں کیا جاتا ہے، اور اس کی روایات میں تحمل کیا جائےگا، اس لئے کہ یہ روایات مقارب ہیں۔

حافظ دار قطنی l ’’الضعفاء‘‘[71] میں سعید بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، يعتبر به‘‘. ضعیف ہے، اس کا ’’اعتبار‘‘ کیا جائے گا۔

حافظ ابن قیسرانی l نے سعید بن مسلمہ کو ’’تذكرة الحفاظ‘‘[72] میں ’’ليس بشيء في الحديث‘‘کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[73]  اور ’’ديوان الضعفاء‘‘[74] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘. محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’الكاشف‘‘[75] اور ’’المهذب‘‘[76] میں سعید بن مسلمہ کو ’’واه‘‘کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التقريب‘‘[77] میں سعید بن مسلمہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[58] تاريخ ابن معين برواية الدارمي:ص:119،رقم:368،ت:أحمد محمد نورسيف،درا المأمون للتراث ـ بيروت .

[59] انظرالكامل في ضعفاء الرجال:4/425،رقم:807،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[60] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/۱۳،رقم:۲۸۹۱،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[61] التاريخ الكبير:4/13،رقم:4618،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[62] الضعفاء الصغير:ص:54،رقم:140،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[63]  الجرح والتعديل:4/67،رقم:281،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .

[64] كتاب العلل:3/544،رقم:1071،ت:سعد بن عبد الله الحميد، وخالد بن عبد الرحمن الجريسي،مكتبة الفهد الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴27هـ .

[65] كتاب العلل:۶/۹۷،رقم:۲۳۵۲،ت:سعد بن عبد الله الحميد، وخالد بن عبد الرحمن الجريسي،مكتبة الفهد الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴27هـ .

[66] الضعفاء والمتروكين:ص:189،رقم:272،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[67]  انظرتهذيب التهذيب:۴/۸۴،رقم:۱۴۴،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى132۷هـ .

[68] كتاب الثقات:۶/۳۷۴،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد،الطبعة الأولى۱۳۹۳هـ .

[69] المجروحين :1/۳۲۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[70] الكامل:4/428،رقم:807،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[71] الضعفاء والمتروکون:ص:۴۱۳،رقم:۶۲۸،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[72] تذكرةالحفاظ:ص:۱۸۵،رقم:۴۳۸،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[73] المغني في الضعفاء:۱/۴۱۴،رقم:۲۴۵۴،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

[74] ديوان الضعفاء:ص:162،رقم:1650،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[75] الكاشف:۱/444،رقم:1959،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .

[76] المهذب في اختصار السنن الكبير:ص:۳۲۷۵،رقم:۱۲۹۶۰،ت:أبي تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن ـ الرياض، الطبعة الأولى1422هـ .

[77]  تقريب التهذيب:ص:241،رقم:2395،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ