اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے آسمان وزمین اور سورج وچاند کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال (اور ایک روایت کے مطابق بیس لاکھ سال) پہلے اپنے نام کے ساتھ محمد ﷺ کا نام عرش پر لکھ دیا تھا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی سعید بن موسی ازدی جہنی حمصی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl’’المجروحين‘‘[39] میں سعید بن موسی کے ترجمہ میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’فلست أدري وضعه سعيد بن موسى أو سليمان بن سلمة، لأن الخبر في نفسه موضوع، ليس من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا من حديث ابن عمر، ولا من حديث نافع، ولا من حديث مالك، وسليمان بن سلمة ليس بشيء، فليس يخلو [الخبر] من أن يكون (مما) عمله أحدهما‘‘.
مجھے نہیں معلوم کہ اس حدیث کو سعید بن موسی نے گھڑا ہے، یا سلیمان بن سلمہ نے گھڑا ہے، کیونکہ خبر فی نفسہ من گھڑت ہے، یہ نہ تو رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے، اور نہ ہی ابن عمر q کی، اور نہ نافع کی، اور نہ ہی مالک کی حدیث ہے، اور سلیمان بن موسی ’’لیس بشیء‘‘ ہے چنانچہ یہ خبر دونوں (یعنی سعید بن موسی یا سلیمان بن سلمہ) میں سے کسی ایک کے عمل سے خالی نہیں ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl نے’’تذكرة الحفاظ‘‘[40] میں، حافظ ابن جوزیl نے ’’ الموضوعات‘‘[41] ، ’’ الضعفاء‘‘[42] اور’’ العلل‘‘[43] میں، حافظ ذہبیl نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[44] میں اور علامہ سیوطیlنے ’’اللآلئ‘‘[45] میں حافظ ابن حبانl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن عبد البر l’’التمهيد‘‘[46] میں ایک دوسری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ورواه أيضا سعيد بن موسى عن مالك بإسناده مثله، وموسى بن محمد وسعيد بن موسى متروكان، والحديث موضوع‘‘. اس روایت کو سعید بن موسی نے بھی اس جیسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے، اور موسی بن محمد اور سعید بن موسی دونوں متروک ہیں، اور حدیث من گھڑت ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’معرفة التذكرة‘‘[47] میں حدیث ’’لولا المنابر‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’فيه سعيد بن موسى الأزدي وسليمان بن سلمة، كلاهما يضع‘‘. اس کی سند میں سعید بن موسی اور سلیمان بن سلمہ ہیں اور یہ دونوں حدیث گھڑتے تھے۔
حافظ ذہبیl ’’تلخيص الموضوعات‘‘[48] میں حدیث ’’لولا المنابر‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’من وضع سعيد بن موسى على مالك، عن نافع، عن ابن عمر‘‘.سعید بن موسی کی یہ حدیث بطریق مالک، عن نافع، عن ابن عمرq پر گھڑی ہوئی احادیث میں سے ہے۔
حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[49] میں فرماتے ہیں: ’’اتهمه ابن حبان بوضع الحديث، وله عن رباح بن زيد موضوعات‘‘. سعید بن موسی کو ابن حبان l نے متہم بالوضع قرار دیا ہے، اور سعید بن موسی کی رباح بن زید کے انتساب سے من گھڑت احادیث ہیں۔
حافظ ہیثمیl’’مجمع الزوائد‘‘[50] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفيه سعيد بن موسى الأزدي، وهو كذاب‘‘. اور اس روایت کی سند میں سعید بن موسی ازدی ہے، اور وہ کذاب ہے۔
علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[51] میں سعید بن موسی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن حبان l کا کلام ذکر کیا ہے۔
حوالہ جات
[39] المجروحين:1/326،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[40] تذكرة الحفاظ:ص:264،رقم:652،ت:حمدي بن عبد المجيد السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى 1415هـ .
[41] الموضوعات:2/105،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولی ۱۳۸۶هـ .
[42] الضعفاء والمتروكين:1/326،رقم:1439،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية - بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[43] العلل المتناهية:2/13،رقم:830 ،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة ترجمان السنة ـ لاهور .
[44] ديوان الضعفاء:ص:163،رقم:1652،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة،الطبعة الثانية.
[45] اللآلئ المصنوعة:2/25،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلميةـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۷هـ .
[46] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:6/699،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي، الطبعة الأولى1439هـ .
[47] معرفة التذكرة:ص:186،رقم:636،ت:عماد الدين أحمد حيدر،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[48] تلخيص الموضوعات:1/178،رقم:410،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1419هـ .
[49] المغني في الضعفاء:۱/۴۱۴،رقم:۲۴۵۷،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[50] مجمع الزوائد:7/97،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[51] تنزيه الشريعة:1/63،رقم:21،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .