اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے آسمان وزمین اور سورج وچاند کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال (اور ایک روایت کے مطابق بیس لاکھ سال) پہلے اپنے نام کے ساتھ محمد ﷺ کا نام عرش پر لکھ دیا تھا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی ابو ایوب سلیمان بن سلمہ بن عبد الجبار خبائری حمصی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
امام بخاری l نے ’’ التاريخ الكبير‘‘[10] میں سلیمان بن سلمہ کا ترجمہ قائم کرکے سکوت کیا ہے۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[11] میں فرماتے ہیں: ’’وسألته عنه، فقال: متروك الحديث، لا يشتغل به، فذكرت ذلك لابن الجنيد، فقال: صدق، كان يكذب، ولا أحدث عنه بعد هذا‘‘. میں نے سلیمان بن سلمہ کے بارے میں والد سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: وہ متروک الحدیث ہے، اس میں مشغول مت ہو، (حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں:) یہ بات میں نے ابن جنید (یعنی ابو الحسن علی بن حسین بن جنید رازی l)سے کہی تو انہوں نے کہا: ابو حاتم l نے سچ کہا ہے، سلیمان بن سلمہ جھوٹ بولتا تھا، اور میں اس کے بعد اس کی حدیث بیان نہیں کروں گا۔
حافظ ابو حاتم l نے سلیمان بن ناشرہ کے ترجمہ میں سلیمان بن سلمہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[12]۔
نیز حافظ ابو حاتم l محمد بن اسحاق بن ابراہیم بن محمد اسدی کے ترجمہ میں سلیمان بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان يكذب‘‘[13]. جھوٹ بولتا تھا۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[14] میں سلیمان بن سلمہ کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[15] میں مؤمل بن سعید رحبی کے ترجمہ میں سلیمان بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں:’’فلست أدري وقع المناكير في روايته منه أو من سليمان بن سلمة، لأن سليمان كان يروي الموضوعات عن الأثبات، فإن كان منه أو من مؤمل أو منهما معا، بطل الاحتجاج برواية يرويانها‘‘. معلوم نہیں کہ مؤمل کی روایات میں موجود مناکیر اسی مؤمل بن سعید کی جانب سے ہیں یا سلیمان بن سلمہ کی جانب سے ہیں، کیوں کہ سلیمان ثبت راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا تھا، چنانچہ اگر یہ سلیمان بن سلمہ کی طرف سے ہوں، یا مؤمل کی طرف سے ہوں، یا بیک وقت دونوں کی طرف سے ہوں، تو ان دونوں کی مرویات سے احتجاج باطل ہے۔
حافظ ابن حبانl’’المجروحين‘‘[16] میں سعید بن موسی ازدی کے ترجمہ میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’فلست أدري وضعه سعيد بن موسى أو سليمان بن سلمة، لأن الخبر في نفسه موضوع، ليس من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا من حديث ابن عمر، ولا من حديث نافع، ولا من حديث مالك، وسليمان بن سلمة ليس بشيء، فليس يخلو [الخبر] من أن يكون (مما) عمله أحدهما‘‘.
مجھے نہیں معلوم کہ اس حدیث کو سعید بن موسی نے گھڑا ہے، یا سلیمان بن سلمہ نے گھڑا ہے، کیونکہ خبر فی نفسہ من گھڑت ہے، یہ نہ تو رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے، اور نہ ہی ابن عمر q کی، اور نہ نافع کی، اور نہ ہی مالک کی حدیث ہے، اور سلیمان بن سلمہ ’’لیس بشیء ‘‘ ہے، چنانچہ یہ خبر دونوں (یعنی سعید بن موسی یا سلیمان بن سلمہ) میں سے کسی ایک کے عمل سے خالی نہیں ہے۔
حافظ ابن حبان l نے ’’الثقات‘‘[17] میں سلیم بن عثمان ابو عثمان طائی کے ترجمہ کے تحت سلیمان بن سلمہ کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[18] میں سلیمان بن سلمہ کے ترجمہ میں دو روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولسليمان بن سلمة أحاديث صالحة غير ما ذكرته، عن محمد بن حرب، وبقية، وغيرهما، وله عن ابن حرب، عن الزبيدي غير حديث أنكرت عليه‘‘. اور سلیمان بن سلمہ کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ صالح حدیثیں ہیں، جو کہ محمد بن حرب، بقیہ، اور ان کے علاوہ کے طریق سے ہیں، اور اس کی ابن حرب، عن زبیدی کے طریق سے بھی کئی احادیث ہیں، جن پر میں نے انکار کیا ہے۔
حافظ ازدی l ، سلیمان بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’معروف بالكذب‘‘. وہ جھوٹ میں معروف ہے[19]۔
حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي‘‘[20] میں سلیمان بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
حافظ ابو علی نیشاپوریl نے سلیمان بن سلمہ خبائری کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[21]۔
حافظ ابن مندہ l ’’فتح الباب‘‘[22] میں سلیمان بن سلمہ خبائری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ایک حدیث کے تحت سلیمان بن سلمہ خبائری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والخبائري مشهور بالضعف‘‘[23]. خبائری ضعف کے ساتھ مشہور ہے۔
حافظ ابن عبد البر l ’’جامع بيان العلم‘‘[24] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وليس سليمان هذا عندهم بالقوي‘‘. اور یہ سلیمان محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l’’تذكرة الحفاظ‘‘[25] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’فلا أدري [هل هو من صنع سعيد] أم صنع سليمان، لأن الحديث موضوع، وكلاهما سيان في الدرجة‘‘. معلوم نہیں کہ اس روایت کو بنانے والا یہ سعید ہے یا سلیمان نے اسے بنایا ہے، اس لئے کہ یہ حدیث من گھڑت ہے، اور سعید اور سلیمان دونوں ’’سیئ الدرجہ‘‘ ہیں۔
حافظ ابن مواق l نے ’’بغية النقاد‘‘[26] میں سلیمان بن سلمہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’سير أعلام النبلاء‘‘[27] اور ’’تلخيص‘‘[28] میں ایک حدیث کے تحت سلیمان خبائری کو ’’متهم‘‘اور ’’ميزان‘‘[29] میں ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[30] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن سلمہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ہیثمی l ہی ’’مجمع الزوائد‘‘[31] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ونسب إلى الوضع‘‘. اور اسے جھوٹ بولنے کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقیl ’’جامع الآثار‘‘[32] میں ایک روایت کے تحت خبائری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والخبائري وشيخه يونس واهيان، لا يقوم بهما حجة‘‘. خبائری اور اس کا شیخ دونوں واہی ہیں، ان دونوں کے ذریعہ حجت قائم نہیں ہوسکتی ہے۔
نیز حافظ ابن ناصر الدین دمشقیl ہی نے ’’جامع الآثار‘‘[33] میں ایک روایت کے تحت خبائری کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تلخيص الحبير‘‘[34] میں ایک حدیث کے تحت سلیمان بن سلمہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[35] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا الحمل فيه على سليمان بن سلمة أولى من الحمل فيه على عمر بن شاكر، والله أعلم‘‘. اور اس حدیث میں سلیمان بن سلمہ پر حمل اولی ہے، بمقابلہ عمر بن شاکر پر اس کے حمل کرنے کے، واللہ اعلم۔
علامہ سیوطی l ’’اللآلئ‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن سلمہ خبائری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يكذب‘‘. یہ جھوٹ بولتا ہے۔
نیز علامہ سیوطی l نے ’’الزيادات‘‘[37] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن سلمہ خبائری کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[38] میں سلیمان بن سلمہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال علي بن الجنيد: كان يكذب‘‘. علی بن جنید l فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولتا تھا۔
حوالہ جات
[10] التاريخ الكبير:۴/۴0،رقم:۴۷۱۳،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[11] الجرح والتعدیل:۴/۱۲۱،رقم:۵۲۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[12] الجرح والتعدیل:۴/1۴۷،رقم:۶۳۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[13] الجرح والتعدیل:7/194،رقم:1089،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[14] الضعفاء والمتروكين:ص:186،رقم:253،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[15] المجروحين:3/3۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[16] المجروحين:1/326،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[17] الثقات لابن حبان:6/415،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن الهند،الطبعة۱۳۹۳هـ .
[18] الكامل في ضعفاء الرجال:4/297،رقم:763،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[19] الضعفاء والمتروكين:2/20،رقم:1527،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406 هـ .
[20] الأسامي والكنى:1/188،رقم:333،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى1436 هـ .
[21] تاريخ دمشق:22/324،رقم:2678،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 1415 هـ .
[22] فتح الباب في الكنى والألقاب:ص:68،رقم:398،ت:أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي، مكتبة الكوثر ـ الرياض، الطبعة الأولى1417هـ .
[23] ميزان الاعتدال:2/210،رقم:3472،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[24] جامع بيان العلم وفضله:1/۳۵،رقم:۲۷،ت:أبو الأشبال الزهيري،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى 1414هـ .
[25] تذكرة الحفاظ:ص:264،رقم:652،ت:حمدي عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[26] بغية النقاد النقلة فيما أخل به كتاب البيان وأغفله أو ألم به فما تممه ولاكمله:2/141،رقم:308،ت:محمد خرشافي، مكتبة أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى1425هـ .
[27] سير أعلام النبلاء:8/526،رقم:139،ت:شعيب الأرنؤوط ومحمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالةـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴01هـ .
[28] تلخيص الموضوعات:ص:۱۹۶،رقم:۴۶۸،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[29] ميزان الاعتدال:۲/۱۶۰،رقم:۳۲۸۰،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[30] مجمع الزوائد:۴/۱۰۱،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[31] مجمع الزوائد:۴/۱۳۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[32] جامع الآثار في السير ومولد المختار:۳/۹۳،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح للبحث العلمي، الطبعة الأولى1431هـ .
[33] جامع الآثار في السير ومولد المختار:5/504،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح للبحث العلمي، الطبعة الأولى1431هـ .
[34] تلخيص الحبير:4/352،رقم:1969،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .
[35] لسان المیزان:4/157،رقم:3622ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[36] اللآلئ المصنوعة:۱/۱۵۱،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[37] الزيادات على الموضوعات:1/4۱۵،رقم:۴۹۴،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[38] تنزيه الشريعة:1/65،رقم:46،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .