اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے آسمان وزمین اور سورج وچاند کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال (اور ایک روایت کے مطابق بیس لاکھ سال) پہلے اپنے نام کے ساتھ محمد ﷺ کا نام عرش پر لکھ دیا تھا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی ابو ایوب یحیی بن میمون بن عطا ء قرشی بصری تمار (المتوفی ما بین 1۸0ھ- 1۹0ھ[58]) کے بارے میں ائمہ رجال کاکلام
حافظ علی بن مدینی l ایک روایت کے تحت ابو ایوب یحیی بن میمون تمار کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’رواه شيخ ضعيف، يقال له: أبو أيوب التمار، وكان عندي ضعيفا‘‘[59]. اسے ایک ضعیف شیخ نے روایت کیا ہے، جسے ابو ایوب تمار کہا جاتا ہے، اور یہ میرے نزدیک ضعیف ہے۔
حافظ عمرو بن على فلاسl فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه، وكان كذابا، حدث عن علي بن زيد بأحاديث موضوعة، روى عن عاصم الأحول أحاديث منكرة‘‘[60]. میں نے اس سے روایات لکھی ہیں، اور یہ جھوٹا تھا، علی بن زیدکے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کرتا تھا، اورعاصم احول کےانتساب سے منکر احادیث روایت کرتاتھا۔
امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں:’’ ليس بشيء، خرقنا حديثه، كان يلقن الأحاديث‘‘[61]. یہ ’’ليس بشیء‘‘ہے، اس کی حدیثوں کوہم نے پھاڑدیا،ان کو احادیث کی ’’تلقین‘‘کی جاتی تھی ۔
امام بخاری l ’’التاريخ الصغير‘‘[62] میں فرماتے ہیں: ’’قال لي عمرو بن علي: كذاب، يروي عن عبد الله بن مثنى‘‘. مجھے عمرو بن علی l نے کہا ہے: یہ کذاب ہے، عبد اللہ بن مثنی سے روایت کرتا ہے۔
امام مسلمl نے’’الكنى والأسماء‘‘[63] میں یحیی بن میمون کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l فرماتے ہیں : ’’ ليس بثقة ولا مأمون‘‘[64].
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[65] میں فرماتے ہیں: ’’قدم بغداد سنة تسعين ومائة وحدثهم بها، فعند أهل العراق منه العجائب التي يرويها مما لم يتابع عليها، حتى إذا سمعها مَنْ الحديثُ صناعتُه لم يشك أنها معمولة، لا تحل الرواية عنه، ولا الاحتجاج به بحال‘‘.
یہ سن ایک سو نوے(۱۹۰) ہجری میں بغداد آیا،اور اہل بغداد کو روایات بیان کیں، اہل عراق کے پاس اس کی مرویات میں ایسے عجائب ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں کی گئی، حتی کہ صناعتِ حدیث سے شغف رکھنے والے شخص کو ان کے من گھڑت ہو نے میں شک نہیں ہوتا ،اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور اس سے احتجاج کرنا کسی حال میں درست نہیں ہے۔
حافظ ابن حبان l نے یحیی بصری کو ’’الثقات‘‘[66]میں بھی ذکر کیا ہے۔
حافظ ابن حبان l کے موصوف کو ’’مجروحین ‘‘و ’’ثقات‘‘دونوں میں ذکر کرنے کی توجیہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: ’’فكأنه ظنه غيره، وهو هو‘‘[67]. گویا کہ ابن حبان l نے اسے کوئی اور سمجھا ہے، حالانکہ یہ وہی ہے(یعنی جسے وہ مجروحین میں نقل کر چکے ہیں)۔
حافظ دارقطنیl نے ’’العلل‘‘[68] میں یحیی بن میمون کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ زکریاساجی l فرماتے ہیں : ’’ كان يكذب، يحدث عن علي بن زيد أحاديث بواطيل‘‘[69].یہ جھوٹ بولا کرتا تھا، علی بن زید کےانتساب سے باطل احادیث بیان کرتا تھا۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[70] میں یحیی بن میمون کے ترجمہ میں چند احادیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وليحيى بن ميمون غير ما ذكرت، وعامة ما يرويه ليس بمحفوظ‘‘.یحیی بن میمون کی میری ذکر کردہ روایات کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی مرویات عام طور پر محفوظ نہیں ہیں ۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[71] میں میمون بن عطاء کے ترجمہ میں ایک حدیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’وهذا منكر بهذا الإسناد، ولعل البلاء فيه من يحيى بن ميمون، لا من ميمون بن عطاء، فإن يحيى من ضعفاء البصريين، ولم أجد للمتقدمين فيه كلاما فأذكره‘‘. یہ اس اسناد سے منکر ہے، شاید اس میں بلاء یحیی بن میمون کی جانب سے ہے، میمون بن عطاء کی جانب سے نہیں ہے، کیونکہ یحیی ضعیف بصری راویوں میں سے ہے، اور میں نے اس کے بارے میں متقدمین کا کلام نہیں دیکھا کہ میں اسے ذکر کروں۔
حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي والكنى‘‘[72] میں یحیی بن میمون کے بارے میں فرماتے ہیں ’’سكتوا عنه‘‘. محدثین نے اس سے سکوت اختیار کیا ہے۔
حافظ ابن عبد البرl ’’الاستغناء‘‘[73] میں فرماتے ہیں: ’’هو عندهم كذاب، حدث بأحاديث موضوعة عن علي بن زيد، وعن عاصم بأحاديث منكرة‘‘. محدثین کے نزدیک یحیی بن میمون کذاب ہے، علی بن زید کےانتساب سے من گھڑت احادیث بیان کرتا ہے، اور عاصم کےانتساب سے منکر احادیث نقل کرتا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[74] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘.محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’المقتنى‘‘[75] میں اسے ’’واه‘‘اور’’ميزان‘‘[76] میں ایک روایت کے تحت ’’أحد الهلكى‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[77] میں ایک روایت کے تحت یحیی بن میمون کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجرl نے ’’التقريب‘‘[78] میں اسے ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[79] میں یحیی بصری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’اتهمه ابن عدي‘‘.ابن عدی l نے اسے متہم قراردیا ہے۔
حوالہ جات
[58] امام بخاری l نے موصوف کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال۱۸۰ ھ اور۱۹۰ھ کے درمیان ہوا ہے (التاريخ الصغير: ۲/۲۰۵، ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ ).
[59] تاريخ بغداد:16/190،رقم:7409،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[60]الجرح والتعديل:۹/۱۸9،رقم:۷۸۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱373هـ .
[61] العلل ومعرفة الرجال:۳/۳۰۱، رقم:۵۳۳۶،ت:وصي الله بن محمد عباس، دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية ۱۴۲۲هـ .
[62] التاریخ الصغير:۲/۲۳۶،ت:محمد إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[63] الكنى والأسماء:۱/۶۹،رقم:۱۲۸،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقرى،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1404هـ .
[64] تاريخ بغداد:16/19۱،رقم:7409،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[65] المجروحين:۳/ ۱۲۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[66] كتاب الثقات:۷/ ۶۰۳،دائرة المعارف العثمانية ـ بحيدر آباد دكن،الطبعة الأولى1393هـ .
[67] تهذيب التهذيب:۴/۳۹۴،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[68] العلل الواردة:۱۲/۲۷،رقم:2367،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴05هـ .
[69] إكمال تهذيب الكمال:۱۲/۳۷2،رقم:۵۲۰۸،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة للطباعة والنشر ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[70] الكامل في ضعفاء الرجال:9/78،رقم:۲۱۲۴،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[71] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۱۶۲،رقم:1898،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[72] الأسامي والكنى:1/192،رقم:338،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى 1436هـ .
[73] الاستغناء:1/398،رقم:389،ت:عبد الله مرحول السوالمة،دار ابن تيمية ـ الرياض،الطبعة الأولى1405هـ .
[74] الكاشف:2/377،رقم:6255،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ السعودية،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[75] المقتنى في سرد الكنى:1/۹9،رقم:۵۵۹،ت:محمد صالح عبد العزيز مراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .
[76] ميزان الاعتدال:۴/۲۳۴،رقم:۸۹۶۷ ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[77] مجمع الزوائد:۵/۱۶۰،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[78] تقريب التهذيب:ص:۵۹۷،رقم:۷۶۵۶،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثانية۱۴۱۱هـ .
[79] تنزيه الشريعة:۱/۱۲۸،رقم:۴۳،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .