اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ایک اونٹنی کا حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں ایک اعرابی کے حق میں درود پڑھنے کی وجہ سے گواہی دینا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ہارون بن یحیی بن ہارون بن عبد الرحمن بن حاطب حاطبی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[53] میں فرماتے ہیں: ’’مديني، لا يتابع على حديثه من هذا الوجه، وقد روي بغير هذا الإسناد,خلاف هذا اللفظ من طريق أصلح من هذا‘‘. یہ مدینی ہے، اس ہارون بن یحیی کی حدیث کی اس سند میں متابعت نہیں کی گئی، اور یہ حدیث اس کے علاوہ دوسری سند سے جو اس سند سے اصلح ہے، ان لفظوں کے علاوہ دوسرے الفاظ سے منقول ہے۔
اس کے بعد حافظ عقیلی l نے ہارون بن یحیی کی ’’عافیت‘‘ کے مضمون پر مشتمل ایک روایت تخریج کی ہے[54] ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l اسی ہارون بن یحیی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وجدت من روايته حديثا منكرا تقدم في ترجمة أحمد بن داود، ووقفت له على عدة أحاديث مناكير، وما عرفته إلى الآن، ثم وجدته في الضعفاء للعقيلي، فقال: مدني، لا يتابع على حديثه‘‘[55].
مجھے اس کی ایک منکر حدیث ملی ہے جو احمد بن داؤد کے ترجمہ میں گزر چکی ہے[56] ، اور میں اس کی متعدد منکر احادیث پر واقف ہوا ہوں، لیکن ہارون بن یحیی کی مجھے اب تک معرفت نہیں ہوسکی، پھر مجھے عقیلی l کی ’’ضعفاء‘‘ میں اس کا ذکر مل گیا، عقیلی l فرماتے ہیں کہ یہ مدنی ہے، اس کی حدیثوں کی متابعت نہیں کی جاتی۔
اس کے بعد حافظ ابن حجر عسقلانی l نے حافظ عقیلی l کی تخریج کردہ حضرت ابوبکرr سے منقول ’’عفو و عافیت‘‘ والی حدیث نقل کی، اور پھر خود امام طبرانی l کے طریق سے ہارون بن یحیی سے منقول زیر بحث ’’اونٹ‘‘ والی حضرت زید بن ثابتr کی روایت تخریج کی، پھر لکھتے ہیں: ’’وهو حديث طويل، ظاهر النكارة‘‘. یہ لمبی حدیث ہے، اس کی نکارت ظاہر ہے[57] ۔
علامہ ابن عراق l نے بھی ’’تنزيه الشريعة‘‘[58] میں اس زیر بحث ’’اونٹ‘‘ والی حضرت زید بن ثابتr کی حدیث کو نقل کرکے حافظ ابن حجر عسقلانی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حوالہ جات
[53] الضعفاء الكبير:۴/361،رقم:1972،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[54] الضعفاء الكبير:۴/361،رقم:1972،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[55] لسان الميزان:8/314،رقم:2814،ت:عبدالفتاح أبو غدة،المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[56] احمد بن داود کے ترجمہ میں مذکورحافظ ابن حجر عسقلانیl کی عبارت ملاحظہ ہو:
[57] حافظ ابن حجر عسقلانی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وأورد من رواية عبد الله بن شبيب عنه، عن سعيد بن عبد الله بن فضيل، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، عن أبي بكر الصديق، حديثا في سؤال العفو والعافية. وأخرج الطبراني من طريق فروة بن سلمة بن عبد الله الأنصاري عنه، عن زكريا بن إسماعيل بن يعقوب بن إسماعيل بن زيد بن ثابت، عن أبيه، عن عمه سليمان، عن زيد بن ثابت، حديثا في قصة الأعرابي الذي اتهم بسرقة البعير، فدعا بدعاء فيه صلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، فشهد البعير ببراءته. وهو حديث طويل ظاهر النكارة‘‘. (لسان الميزان:8/314،رقم:2814،ت:عبد الفتاح أبو غدة،المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ).
[58] تنزيه الشريعة:2/332،رقم:49،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .