اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ایک اونٹنی کا حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں ایک اعرابی کے حق میں درود پڑھنے کی وجہ سے گواہی دینا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی یحیی بن عبد اللہ مصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام حاکمl ’’المستدرك‘‘[14] میں زیر بحث روایت تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’رواة هذا الحديث عن آخرهم ثقات، ويحيى بن عبد الله المصري هذا لست أعرفه بعدالة ولا جرح‘‘. اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور یحیی بن عبد اللہ مصری کے بارے میں مجھے جرح وتعدیل کی معرفت نہیں ہے۔
حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[15] میں یحیی بن عبد اللہ مصری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن عبد الرزاق بخبر باطل قطعا‘‘. اس نے عبد الرزاق کے انتساب سے قطعی طور پر ایک باطل حدیث بیان کی ہے۔
نیز حافظ ذہبیl’’ميزان الاعتدال‘‘[16]میں فرماتے ہیں: ’’شيخ مصري، عن عبد الرزاق، فذكر حديثا باطلا بيقين، فلعله افتراه‘‘. یحیی بن عبد اللہ شیخ مصری ہے، اس نے عبد الرزاقl سے روایت کرتے ہوئے ایک حدیث ذکر کی ہے، جو یقینی طور پر باطل ہے، شاید اس نے ہی اسے گھڑا ہے۔
علامہ سبط ابن العجمیlنے’’الكشف الحثيث‘‘[17]میں حافظ ذہبیl کے قول پر ااعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[18] میں یحیی بن عبد اللہ مصری کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’بخبر باطل اتهم به‘‘. ایک باطل حدیث کی وجہ سے متہم قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ جات
[14] المستدرك:2/676،رقم:4236،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1422هـ .
[15] المغني في الضعفاء:2/۵۲۲،رقم:700۵،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[16] ميزان الاعتدال:4/390،رقم:9561،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت.
[17] الكشف الحثيث:279،رقم:835 ،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[18] تنزيه الشريعة:1/127،رقم:22،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .