روایت:’’آپﷺ کا ارشاد ہے: میں ایک لطیف جوہر تھا، میں عرش کا طواف کر رہا تھا کہ اللہ تعالی کی مجھ پر نظر پڑگئی، سو مجھے حیاء آئی اور پسینہ آگیا، تو مجھ سے پسینہ کے سات قطرے ٹپکے، پھر پہلے قطرے سے اللہ تعالی نے ابو بکر r، دوسرے سے عمر r، تیسرے سے عثمان r، چوتھے سے علی r، پانچویں سے گلاب کا پھول، چھٹے سے چاول اور ساتویں قطرے سے کدو کو پیدا کیا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مفاتيح الجنان شرح شرعة الإسلام:ص:26۹،المطبعة العثمانية،الطبعة1317هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا خوش ہوکر حضرت عائشہR سے فرمانا: آج مانگو مجھ سے کیا مانگتی ہو؟ حضرت عائشہR کا حضرت ابو بکر r سے مشورہ کرنے کے بعد یہ عرض کرنا: معراج کی رات قربتِ خاص میں جو باتیں آپ سے ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بتا دیں۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: جبریلe نے مجھ سے عرض کیا کہ یقیناً آپ کے بعد عمرr کی موت پر اسلام روئے گا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! اللہ جل شانہ سخاوت کو پسند کرتا ہے چاہے وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ تعالی بہادری کو پسند کرتا ہے چاہے وہ سانپ اور بچھو ہی کے مارنے میں کیوں نہ ہو‘‘، بعض مقامات پر یہی قول حضرت عمران بن حصین r کو مخاطب بنا کر فرمایا گیا ہے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ جل شانہ شبہات کے ہجوم میں گہری نظر کو محبوب رکھتا ہے، اور شہوتوں کے نزول کے وقت عقل کامل کو محبوب رکھتا ہے‘‘۔