روایت: نورِ محمدی ﷺ سے اندھیرے میں گمشدہ سوئی کی چمک۔
حکم: من گھڑت
تفصیل
رسالت مآب ﷺ کی ذات اَقدس مجسّم فضائل ومناقب ہے، اور ہر مسلمان دل وجان سے آپ ﷺ کے ان معجزات وکمالات کا معترف ہے، لیکن یہ بات واضح رہے کہ آپ ﷺ کی معجزانہ شان میں یہ بھی داخل ہے کہ آپ ﷺ کے تمام تر شمائل مستند دلائل سے ثابت ہیں،جن میں کسی خود ساختہ مداخلت کی قطعاً گنجائش نہیں ہے، اسی پر اَعلامِ امت کا اجماع ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو آپ ﷺ کے مناقب پر مشتمل من گھڑت روایت سے آگاہ کیا جائے، تو اسے یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ جب آپﷺ کے بے شمارمعجزات ہیں،تو اس روایت کو رسول اللہ ﷺ کی طرف انتساب کرنے میں کیا حرج ہے؟ یہ سوال بظاہر معصومانہ لہجہ رکھتا ہے، لیکن اگر شریعت اسلامیہ میں ایسی غیر مسند اور غیر مستندباتوں کا سدّ باب نہ ہوتا تو وہ مسخ ہو کر رہ جاتی، چنانچہ آپﷺ نے بذاتِ خود انتہائی اہتمام سے ان بے جا مداخلتوں پرسخت وعید بیان کی ہے:
’’مَنْ کَذَبَ علَيّ مُتَعَمّداً فلْیَتَبَوّأ مَقْعَدَه مِن النّار‘‘[1].
’’جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے،وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے‘‘۔
ذیل میں آپ ﷺ کے مناقب پر مشتمل ایک ایسی ہی روایت بیان کی جائے گی، جو من گھڑت ہونے کے با وجودزبان زَد عام ہے۔
مَسْعَدہ بن بکر الفَرْغَانی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال:
حوالہ جات
[1] الجامع الصحيح للبخاري: باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم:1/33 ،رقم الحديث:107، ت:محمد زهير بن ناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[2] تاريخ دمشق:باب صفة خلقه ومعرفة خلقه:3/310،ت:محب الدين أبو سعيد،دارالفكر ـ بيروت،الطبعة 1415هـ .
[3] دلائل النبوة:1/113،رقم:117،ت:محمد محمد الحداد،دار طبية ـ الرياض .
[4] الآثار المرفوعة:1/46،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[5] ميزان الاعتدال:مسعدة:4/98،رقم:8464 ،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[6] لسان المیزان:8/40،رقم:7680،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بحلب،الطبعة الأولى1423هـ .
[7] الجامع الصحيح لمسلم:كتاب صفات المنافقين وأحكامهم:4/2146،رقم:2784ت:محمد فؤاد عبد الباقي، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[8] تنزيه الشريعة المرفوعة:۱/116،رقم:367،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الکتب العلمية ـ بیروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[9] القول البديع:خاتمة،496،ت:محمد عوامة،دار اليسر ـ المدينة المنورة،الطبعة الثانية1428هـ .
ملتی جلتی احادیث
عنوانِ قصہ: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے ابو شحمہ کو بطور حد کوڑے لگانا۔
روایت: ’’خُذُ وا شَطْرَ دِینِکم عن الحُمَیرَاء‘‘. تم اپنا نصف دین حمیراء (حضرت عائشہ R) سے حاصل کرو۔
روایت: آپ ﷺ کا وِصال سے قبل اپنی ذات پر قصاص اور بدلہ دِلوانا۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
روایت: ’’اتّقُوا مَوَاضِعَ التُّهَم‘‘. تہمت کی جگہوں سے بچو۔