روایت: ’’ لي مع الله وقت، لا يسع فيه ملك مقرب ولا نبي مرسل‘‘. میرے اور اللہ کے درمیان کچھ خاص اوقات ہوتے ہیں، جہاں کوئی فرشتہ بھی پَرْ نہیں مارسکتا، اور جہاں کوئی نبی مرسل یعنی جبرائیل e بھی نہیں جاسکتے ۔
حکم: یہ حدیث نہیں ہے، بلکہ بعض صوفیاء کا کلام ہے،نیز اس قول کے پس منظر میں ایک مشہور قصہ بھی(جس میں یہ ہے کہ عائشہ R کون؟پھر فرمایا کہ ابو بکر r کون؟) سندا ً ثبوت سے قاصر ہے،ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الرسالةالقشيرية:۱۸۳،ت:عبدالحليم محمود،المكتبة التوفيقيةـ القاهرة .
[2] المقاصدالحسنة:۴۱۰،رقم:۹۲۴،ت:عبدالله محمد الصديق، دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۷هـ .
[3] الأسرارالمرفوعة:۲۹۱،رقم:۳۹۲ ،ت:محمد الصباغ،المکتب الإسلامی ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶ هـ .
[4] المصنوع:۱۵۱،رقم:۲۵۹،ت:عبد الفتاح أبوغدة،مكتب المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۳۸۹هـ .
[5] النخبة البهية:ص:۱۰۳،رقم:۲۷۸،ت:زهيرالشاويش،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة ۱۴۰۹هـ .
ملتی جلتی احادیث
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا
حکایت:حضرت بلال r کا نبی ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا، پھر اذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ وبکا۔
روایت: پیغمبر ﷺ کا معلّمین کے لئے مالداری کی دعا فرمانا اورقُراء کے لئے فقر کی دعا فرمانا
پیغمبر ﷺ کا معلّمین کے لیے بخشش، درازی عمر اورکمائی میں برکت کی دعافرمانا
افطار کی دعا: ’’اللّهم لك صمت وبك آمنت وعليك توكلت وعلى رزقك أفطرت‘‘.