روایت: ’’ایک دفعہ حضرت عبد الرحمن بن عوفr نے سارے مدینے والوں کی دعوت کی، اسی دوران اچانک رسول اللہﷺ کی نظر ایک صحابیr پر پڑی جو کسی گہری سوچ میں تھے، آپﷺ نے پوچھا: عبد الرحمن بن عوفr نے مدینے والوں کی دعوت کی ہے اور تم یہاں بیٹھے کیا غور وفکر کر رہے ہو؟ تو وہ صحابیr کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں یہاں اسی فکر میں بیٹھا ہوں کہ کیسے آپﷺ کا ایک ایک امتی جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے؟ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر عبد الرحمن ہزار سال بھی مدینے والوں کی دعوت کرتا رہے تو تمہارے ثواب کو نہیں پاسکتا‘‘۔
باب: صحابہ کرام کے فضائل
حضرت بلال اور دیگر صحابہ کرام کے فضائل، واقعات اور مجموعی طور پر صحابہ کی فضیلت۔
گروپ: صحابہ و اہلِ بیت
26 روایات
روایت: ’’أبو الدرداء من الفقهاء العلماء الذين يشفون من الداء‘‘. ابو درداء r ان فقہاء علماء میں سے ہیں، جو لوگوں کو بیماری سے شفاء دیتے ہیں۔
روایت: ایک صحابی r کا ایمان لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ایک عورت کو دیکھنے سے انکار کرنا، جس سے ایمان لانے سے قبل تعلقات تھے۔
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔
روایت: ’’ آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’الصحابة كلهم عدول‘‘. صحابہ رضی اللہ عنہم سارے کے سارےعادل ہیں‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو دجانہ r ایک صحابی ہیں، وہ فجر کی نماز پڑھتے، اور نماز پڑھنے کے بعد جلدی اپنے گھر چلے جاتے تھے، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں فجر کی محفل میں شرکت نہیں کرتے تھے، کسی نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ابو دجانہ r پتہ نہیں کس حال میں ہے کہ جلدی چلا جاتا ہے، جب نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم جلدی کیوں چلے جاتے ہو؟ تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے ہمسائے کے گھر میں ایک درخت ہے جس پر پھل لگے ہوئے ہیں، مگر اس کی کچھ شاخیں میرے گھر پر آتی ہیں، اور جب رات ہوتی ہے تو شاخوں سے پھل میرے گھر میں گر جاتے ہیں، میں فجر کی نماز پڑھ کر جلدی آتا ہوں، تا کہ ان پھلوں کو اٹھا کر اس آدمی کے گھر واپس ڈال دوں، ایسا نہ ہو کہ میرے بچے جاگ جائیں، اور بلا اجازت دوسرے کے پھل کھانے کے گناہ میں ملوث ہوجائیں۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابو بکر r کو والد، عمر r کو مشیر، عثمان r کو سند وحجت اورتجھے مددگار بناؤں، تم چار ہو، اللہ نے لوح محفوظ میں عہد لیا ہے کہ تم سے صرف متقی مؤمن ہی محبت کر سکے گا، تم سے بغض رکھنے والا بد بخت منافق ہو گا، تم چاروں خلف رشید ہو، اور میری ذمہ داریوں کی مضبوطی ہو، اور میری امت پر حجت ہو‘‘۔
حضرت بلال r کا آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کرجنت میں داخل ہونا۔
حضرت سعد بن ابی وقاصr کی قبر کا چین میں ہونا
روایت: نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’سين بلال عند الله شين‘‘. بلال کا سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے۔بعض مقامات پر یہ روایت ان الفاظ سے ہے:’’إن بلالا كان يبدل الشين في الأذان سينًا‘‘. بلال r اذان میں شین کو سین سے بدل دیتے تھے۔