روایت: ’’ آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’الصحابة كلهم عدول‘‘. صحابہ رضی اللہ عنہم سارے کے سارےعادل ہیں‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] اس بارے میں حافظ ابن عبد البرl کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’ونحن وإن كان الصحابة رضي الله عنهم قد كفينا البحث عن أحوالهم لإجماع أهل الحق من المسلمين وهم أهل السنة والجماعة على أنهم كلهم عدول‘‘. (الاستيعاب في معرفة الأصحاب:1/19،ت:علي محمد البجاوي،دار الجيل ـ بيروت،الطبعةالأولى1412هـ) .
حافظ عراقیl کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وحكى ابن عبد البر في الاستيعاب إجماع أهل الحق من المسلمين، وهم أهل السنة والجماعة على أن الصحابة كلهم عدول‘‘. (شرح التبصرة والتذكرة:2/131،ت:عبد اللطيف الهميم،ماهر ياسين فحل، دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1423هـ) .
حافظ ابن حجر عسقلانیl فرماتے ہیں: ’’الصحابة كلهم عدول بإجماع أهل الحق‘‘. (الإصابة في تمييز الصحابة:1/68، رقم: 10584،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1415هـ) .
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرت عمرr ایک مجلس میں بیٹھے فیصلے فرمارہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان کو دو نوجوان خوبصورت لباس پہنے گھسیٹ کر لائے، اور کہا کہ ہمارے والد باغ میں کام کر رہے تھے، اس شخص نے ہمارے والد کو قتل کردیا ہے، ہمیں قصاص چاہئے، حضرت عمر r کے پوچھنے پر اس نوجوان نے قتل کا اقرار کیا، اور قتل کرنے کی وجہ بیان کی، پھر نوجوان نے حضرت عمر r سے تین دن کی مہلت مانگی کہ میرے پاس میرے بھائی کی امانت رکھی ہوئی ہے، میں اس کو واپس کرکے آتا ہوں، حضرت عمر r نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ اس کی کوئی ضمانت لیتا ہے، پھر نوجوان کا حضرت ابو ذرr کو اپنا کفیل بنانا، تیسرے دن حضرت عمر r نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر نوجوان نے تاخیر کی تو میں ابو ذر r سے متعلق وہ کر گزروں گا جس کا اسلامی شریعت تقاضہ کرتی ہے، حاضرین لمبی لمبی سانس لینے لگے، شور وشغب بڑھ گیا، ہچکیاں بڑھ گئیں،بڑے صحابہ p نے ان دو نوجوانوں کو دیت کی پیش کش کی، لیکن وہ دونوں مقتول کے خون کا بدلہ لینے پر ہی اصرار کرتے رہے، چنانچہ صحابہ p بے چین ہوگئے، اور ابو ذر rپر افسوس کرتے ہوئے چیخ وپکار کرنے لگے، اچانک وہ نوجوان آگیا، پھر ان دو نوجوانوں نے اپنے والد کے قاتل کو معاف کردیا۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو آدمی تہجد پڑھتا ہے، اس کے جسم کے اعضاء ایک دوسرے کو کہتے ہیں: ’’قد قام صاحبنا لخدمة الله تعالى‘‘. ہمارا ساتھی (آج رات) اللہ تعالی کی خدمت گزاری کےلئے کھڑا ہوگیا ہے‘‘۔
روایت: خطبۂ جمعہ میں خطیب کے چہرے کی طرف دیکھنے پر میدان مزید میں اللہ تعالی کا دیدار نصیب ہونا۔
روایت: ’’اللہ جل جلالہ کے حکم پر ابلیس کا رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا، اور آپ ﷺ کا ابلیس سے اس کے دشمنوں اور دوستوں کے بارے میں سوال کرنا، اور ابلیس کا بتانا کہ آپ ﷺ کی امت میں میرے پندرہ دشمن، اور دس دوست ہیں‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ نعم المذكر السبحة‘‘. تسبیح بہترین یاد دلانے والی چیز ہے‘‘۔