التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)

حضرت سعد بن ابی وقاصr کی قبر کا چین میں ہونا

حکم: ہمارے زمانے میں زبان زد عام وخاص یہی ہے کہ مشہور صحابیحضرت سعد بن ابی وقاص r چین میں مدفون ہیں، یہ بات درست نہیں،درست بات یہ ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص r کا انتقال مدینہ یا اس کےقریب کسی مقام پر ہوا، مدینہ میں ان کی نمازجنازہ ادا کی گئی، پھروہیںاوربعض روایات کے مطابق بقیع میں ان کو دفن کیا گیا۔

تفصیل

حوالہ جات

[1] معرفة الصحابة:۱/۱۳۱،رقم:۵۱۳،ت:عادل بن يوسف العزازي،دار الوطن للنشرـ الرياض.

[2] معرفة الصحابة:۱/۱۳۱،رقم:517،515،514،513،512،511،510،504،ت:عادل بن يوسف العزازي، دار الوطن للنشرـ الرياض.

[3] حافظ ابو زید عمر بن شبہ نمیری l (المتوفی 262ھ) نے ’’تاريخ المدينة المنورة‘‘ میں ابن دہقان سے نقل کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصr نے بقیع میں اپنی تدفین کےلئے جگہ کی تعیین کی تھی،اور انھیں وصیت کی تھی کہ میرے انتقال کے بعد لوگوں کو بتا دینا کہ مجھے یہاں دفن کریں،چنانچہ اُن کے انتقال کے بعد ابن دہقان نے حضرت سعد بن ابی وقاصr کے بیٹے کو ان کی وصیت بتا دی،ان کے بیٹے نے حضرت سعد بن ابی وقاصr کی بقیع میں اُن کے ذکر کردہ مقام پر تدفین کی،عبارت ملاحظہ ہو:

’’( قبر سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه) حدثنا محمد بن يحيى، قال: أخبرني عبد العزيز بن عمران، عن عبد الرحمن بن خارجة، قال: أخبرني ابن دهقان، قال: دعاني سعد بن أبي وقاص، فخرجت معه إلى البقيع، وخرج بأوتاد، حتى إذا جاء من موضع زاوية دار عقيل الشرقية الشامية، أمرني فحفرت، حتى إذا بلغت باطن الأرض ضرب فيها الأوتاد، ثم قال: إن هلكت، فادللهم على هذا الموضع يدفنوني فيه، فلما هلك، قلت ذلك لولده، فخرجنا حتى دللتهم على ذلك الموضع، فوجدوا الأوتاد، فحفروا له هناك ودفنوه‘‘ (تاريخ المدينة:1/116،ت:فهيم محمد شلتوت) .

علامہ سمہودی l (المتوفی 911ھ) نے ’’وفاء الوفاء‘‘ میں حافظ ابو زید عمر بن شبہ l کے قول پر اعتماد کیا ہے (وفاء الوفاء:3/88 ، ت:خالد عبد الغني محفوظ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ ) .

[4] الاصابة:۳/۶۳،ت:علي محمد معوض وعادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[5] أسد الغابة:۱/ ۱۸۸،رقم:۷۰،ت:علي محمد معوض،عادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعةالثانية۱۴۲۴هـ .

[6] الاستيعاب:۲/ ۶۱۰،ت:علي محمد البجاوي،دار الجيل- بيروت،الطبعةالأولى1412هـ .

[7] الصحیح لمسلم:2/669،رقم:101،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .