روایت: ایک صحابی r کا ایمان لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ایک عورت کو دیکھنے سے انکار کرنا، جس سے ایمان لانے سے قبل تعلقات تھے۔
تفصیل
ایک صحابی r ایمان لے آئے، اور کچھ عرصہ صحبت نبوی ﷺ میں رہنے کے بعد گھر واپس گئے، وہاں ان کے کسی عورت کے ساتھ مراسم اور تعلقات تھے، وہ عورت ان سے ملنے کےلئے آئی، انہوں نے رخ پھیر لیا، وہ کہنے لگی: کیا بات ہوئی؟ وہ بھی وقت تھا جب تم میری محبت میں بےقرار ہوکر گلیوں کے چکر لگاتے تھے، مجھے ایک نظر دیکھنے کےلئے تڑپتے تھے، میری ملاقات کے شوق میں ٹھنڈی آہیں بھرتے تھے جب میں تم سے ملاقات کرتی تھی، تو قسمیں کھا کھا کر اپنی محبت کی یقین دہانی کرواتے تھے، اب میں خود چل کر تمہارے پاس ملنے کےلئے آئی ہوں تو تم نے آنکھیں بند کرلیں، وہ فرمانے لگے کہ میں ایک ایسی حسین ہستی دیکھ کر آیا ہوں کہ اب میری نگاہیں کسی غیر پر نہیں پڑ سکتیں، میں دل کا سودا کرچکا ہوں، وہ عورت ضد میں آکر کہنے لگی: اچھا ایک مرتبہ میری طرف دیکھ تو لو، اس صحابی r نے فرمایا: اے عورت! چلی جا، ورنہ میں تلوار سے تیرا سر قلم کردوں گا۔
ملتی جلتی احادیث
حکایت: آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ
حکایت کا خلاصہ:نصوح نامی ایک شخص گزرا ہے جس کی آواز اور چہرہ عورتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا، وہ عورتوں کو حمام میں نہلاتا اور ان کے جسم کو ملتا تھا، بادشاہ کے گھر کی عورتیں بھی اس کے پاس آتی تھیں، اس کے فریب پر کوئی مطلع نہ ہوسکا، وہ توبہ کرتا لیکن توڑ دیتا، ایک مرتبہ بادشاہ کی لڑکی کا ایک موتی حمام میں گم ہوگیا، دربان عورتوں نے حمام کا دروازہ بند کر دیا اور سامانوں میں تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہ موتی کہیں نہیں ملا، آخر میں سب کو کپڑے اتارنے کا حکم ہوا، نصوح خوف سے تنہائی میں چلا گیا، چہرہ زرد اور ہونٹ نیلے ہوگئے، وہ مرنے کے قریب ہو گیا کہ اگر اس کے کپڑے اتارے گئے تو راز فاش ہو جائے گا، اس نے اللہ تعالی سے تنہائی میں آہ و زاری کی، پکی اور سچی توبہ کی، چنانچہ اس کی باری آنے سے قبل ہی موتی مل گیا۔
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔
روایت:حدیث عَطَّارَہ حولاء، جس میں حاملہ عورت کی فضیلت،بیوی سےبوس وکنار، ہمبستری اور غسل جنابت کی فضیلت،نیز گھرکے سامان کو سلیقہ سے رکھنے کی فضیلت کو ذکر کیا گیا ہے۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ علماء اور فقہاء سے دور بھاگیں گے، تو اللہ تعالی ان کو تین مصیبتوں میں مبتلا کردیں گے: 1 ان کی کمائی سے برکت اٹھا لی جائے گی، 2 اللہ تعالی ان پر ظالم بادشاہ مسلط کردیں گے، 3 وہ دنیا سے بغیر ایمان کے جائیں گے‘‘۔
روایت:ایک بچہ کا اپنی ماں کی گود میں حضرت یوسف e کی پاک دامنی کی گواہی دینا، اور حضرت یوسف e کا اس بچے کے جوان ہونے پر اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا، اور اس پر حضرت جبرئیل e کا یہ فرمانا: اللہ کریم اس مومن کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے جس نے پوری زندگی اللہ تعالی کی وحدانیت کی گواہی دی۔