روایت: ایک مرتبہ نبی کریم ﷺمسجد نبوی میں بیٹھے اپنی جوتی مرمت کرنے لگ گئے،صحابہ کرام p نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم مرمت کرلیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:میں جوتی نہیں بنارہا، بلکہ بت توڑرہاہوں، تاکہ قیامت تک آنےوالے زمانہ میں کوئی پیشہ کے لحاظ سےذلیل نہ سمجھے۔
باب: شمائل و عاداتِ نبوی ﷺ
آپ ﷺ کا حلیہ، سایہ، لباس، معمولات، زہد و فقر اور اخلاقِ کریمہ سے متعلق روایات۔
گروپ: سیرت
19 روایات
روایت: ”آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’جب آنحضرت ﷺ داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو پہلے دونوں آنکھوں پر لگاتے تھے‘‘، یہ روایت نہیں ملی،البتہ یہ روایت کہ: ’’آپ ﷺ جب داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو داڑھی بچہ سے شروع فرماتے‘‘،شدید ضعیف ہے۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تمہاری دنیا میں، تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو، عورتیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے،اس کے بعد حضرت ابوبکرr نے ارشاد فرمایا کہ مجھے بھی تین چیزیں محبوب ہیں .... پھر حضرت عمر r نے بھی یہی فرمایا،اور ان کے بعد حضرت عثمان r و حضرت علی r نے بھی اپنی تین محبوب چیزیں ذکر کیں‘‘، آپ اس کی کوئی صحیح یا حسن یا ضعیف سند ہی نہ پائیں گے۔
روایت: رسول اللہ ﷺ کے ذمہ ایک یہودی کا قرض، آپ ﷺ کا یہودی سے مہلت طلب کرنا، اور اس یہودی کا آپ ﷺ کو اپنے پاس قرض کی ادائیگی تک روکے رکھنا مہلت نہ دینا، اور آپ ﷺ کا اسی جگہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے روز صبح کی نماز بھی وہیں ادا کرنا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر رنج کا اظہار کرنا، آخر کار یہودی کا اسلام قبول کرنا۔
”روایت کہ آپ ﷺ نے بلی کو ڈرانے کے لئے روئی کے گالے سے مارا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
روایت: ’’آپﷺ کی پشت پر موجود مہر نبوت میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: ’’ سر حيث شئت، فإنك منصور‘‘. چلو پھرو جہاں چاہو، آپ کی مدد کی جائے گی‘‘۔