التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: شمائل و عاداتِ نبوی ﷺ

آپ ﷺ کا حلیہ، سایہ، لباس، معمولات، زہد و فقر اور اخلاقِ کریمہ سے متعلق روایات۔

گروپ: سیرت

19 روایات

  1. روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔

  2. روایت:’’حضرت عائشہR فرماتی ہیں کہ میں ایک دن گوشت بھون کر بیٹھی، میں نے کہا: آپ ﷺ کےلئے بھنا ہوا گوشت ہے، آپ ﷺ نے پانی کا ایک بڑا پیالہ اس میں اور ڈال دیا، میں نے کہا :یا رسول اللہﷺ!میں نے بڑے مزے کا گوشت بنایا تھا، فرمایا: عائشہ !اکیلا نہیں کھاؤں گا، چالیس گھروں تک جو بیوہ ہیں میں محمد ان کے پاس بھی یہ اللہ کی نعمت اور نبی کا تحفہ پہنچاؤں گا، پھر گوشت کے قریب بیٹھ گئے، فرمانے لگے: فلاں بوڑھی کو بلاؤ، فلاں بیوہ کو بلاؤ، فلاں اندھی کو بلاؤ، فلاں لنگڑی کو بلاؤ، عائشہR فرماتی ہیں کہ کچھ نہ بچا، سارا پیغمبرﷺ نے بیٹھ کر تقسیم کردیا‘‘۔

  3. ’’فاقہ سے مجبور ہو کر آپ ﷺنے ایک یہودی کے کنویں سے ایک ڈول پر ایک کھجورکے عوض کام کیا، پانچوے ڈول پر رسّی ٹوٹ گئی اور ڈول گر گیا، یہودی نے ایک چانٹا اس زور سے فخر الموجودات ﷺ کو مارا کہ گال سرخ ہوگیا‘‘، مجھے اس کے من گھڑت ہونے کا ڈر ہے۔