التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’جب آنحضرت ﷺ داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو پہلے دونوں آنکھوں پر لگاتے تھے‘‘، یہ روایت نہیں ملی،البتہ یہ روایت کہ: ’’آپ ﷺ جب داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو داڑھی بچہ سے شروع فرماتے‘‘،شدید ضعیف ہے۔

تفصیل

’’سوال: البتہ تیسرے سوال کے متعلق عرض ہے کہ میں نے جس حدیث کے متعلق دریافت کیا تھا آپ نے اس کے قریب ایک دوسری حدیث کا ذکر فرمایا، میرا سوال ایک دوسری حدیث کے متعلق ہے، ’’السراج المنیر‘‘ میں مُنَاوِی lکے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو پہلے دونوں آنکھوں پر لگاتے تھے،یعنی پھر داڑھی پر لگاتے تھے، یہ روایت کہاں ہے؟

جواب:  حدیث ×إذا ادهن÷ آپ نے خود سوال میں ناقص نقل کی تھی، جیسا کہ آپ کے سوالِ سابق کے الفاظ سے ظاہر ہے،اب اس وقت جو روایت آپ نے دریافت فرمائی ہے سرِدست وہ مجھے نہیں ملی[1]، ہاں ایک روایت داڑھی میں تیل لگانے کی اور وارد ہے:

×فأخرج الطَبَرَاني في الأوسط عن عائشة i: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم کان إذا ادهن لحیته بدأ بالعنقفة [كذا في الأصل والصحيح: العَنْفَقَة] . وفیه الحَکَم بن عبد الله بن سعد الأیلي ضعیف جدا، قال أحمد أحادیثه کلها موضوعة، کذا ذکره الهیثمي (ص: ۱۷/۵)÷[2].‘‘

[طَبَرَانی l نے ’’اوسط‘‘ میں عائشہ R سے تخریج کیا ہے: آپ ﷺ جب داڑھی میں تیل لگاتے تھے تو داڑھی بچہ سے شروع فرماتے۔(حضرت جونپوری l فرماتے ہیں) اس (کی سند) میں حَکَم بن عبد اللہ بن سعد ایلی شدید ضعیف راوی ہے، احمد فرماتے ہیں کہ اس کی تمام احادیث من گھڑت ہیں، ہیثمی l نے اسی طرح ذکر کیا ہے]

حوالہ جات

[1] سوال میں مذکور حدیث حافظ ابن حبان l نے ’’المجروحین‘‘ (۱/ ۲۴۴) میں ذکر کی ہے،آپ حسین بن علوان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

×حسين بن عُلْوَان من أهل الكوفة، كان يضع الحديث على هشام بن عروة وغيره من الثقات وضعا لا تحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب، كذبه أحمد بن حنبل رحمه الله...÷.حسین عُلوَان اہل کوفہ میں سے تھا،ہشام بن عروہ اور ان کےعلاوہ ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتا تھا،اس سے مروی روایات کو بطور تعجب ہی لکھا جائے،امام احمد بن حنبل l نے اس کو جھوٹا کہاہے۔۔۔‘‘۔

اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے ’’هشام عن ابیه، عن عائشه، عن النبی صلى الله عليه وسلم‘‘ کی سند سے حسین بن علوان کی من گھڑت روایات ذکر کی ہیں،ان میں یہ روایت بھی ہے : ’’كان رسول الله صلى الله عليه وسلم  إذا ادهن بدهن جعل في راحته اليسرى وبدأ بحاجبيه شاربه[كذا في الأصل] ثم لحيته ثم رأسه‘‘. نبی اکرمﷺ جب تیل لگاتے تو اسے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں لیتے، اور اَبرؤں سے تیل لگانا شروع کرتے، پھر مونچھوں پر، پھر داڑھی پر، اس کے بعد سر میں تیل لگاتے تھے۔

حافظ ابو الفضل مقدسی ابن قَیْسَرَانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘ (ص:۲۴۷،رقم:۵۸۶)میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’وحسين هذا من أهل الكوفة، يضع الحديث‘‘. یہ حسین اہل کوفہ میں سے ہے اور احادیث گھڑتا ہے۔

[2] الیواقیت الغالیۃ: داڑھی پر تیل لگانے سے پہلے آنکھوں پر لگانا ۔۔۔، ۱/۲۲۸۔

ملتی جلتی احادیث