” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
تفصیل
سوال (۵۷۱) بسم الله الرحمن الرحیم، نحمده ونصلي على رسوله الکریم.کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضور سرورِ کائنات محمد رسول اللہ ﷺ رُوحِی فِدَاہ نے کبھی کسی جلسہ میں جس میں ایک سو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین بھی موجود تھے، ان میں سے کسی شخص نے کچھ اشعار پڑھے، جس سے حضور ﷺ کو تواجُد ہوا اور ردائے مبارک جسم اقدس سے گر گئی، اور وہ ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑی گئی اور سو موجودہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک ایک ٹکڑا تقسیم کر لیا، بینوا توا جروا ۔
الجواب: ”عوارف المعارف“با ب خامس وعشرین فی القول فی السماع تادّباً واعتناءً کے اخیر میں یہ روایت کسی قدر تغیر کے ساتھ موجود ہے، پھر اس کو نقل کر کے شیخ [شہاب الدین سُہْرَوَرْدِی l] نے یہ فرمایا ہے :
{فهذا الحدیث أوردناه مسندا کما سمعناه ووجدناه، وقد تکلم في صحته أصحاب الحدیث، وما وجدنا شیئا نقل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم یشاکل وجد أهل الزمان وسماعهم واجتماعهم وهیئتهم إلا هذا، وما أحسنه من حجة للصوفیة وأهل الزمان في سماعهم وتمزیقهم الخرق وقسمتها أن لو صح والله أعلم، ویخالج سري أنه غیر صحیح، ولم أجد فیه ذوق اجتماع النبي صلى الله عليه وسلم مع أصحابه، وما کانوا یتمدونه على ما بلغنا في هذا الحدیث، ویأبى القلب قبوله، والله أعلم بذلك}.
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ محدثین بھی اس روایت کو ثابت نہیں کہتے، اور حضرت شیخ l [شہاب الدین سُہْرَوَرْدِی l] بھی غیر صحیح فرماتے ہیں، اور اپنی شہادتِ قلب سے عدمِ صحت کی تائید کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس حالت میں اس سے احتجاج کس طرح جائز ہو سکتا ہے[1]۔
دوسرے انداز سے
نئے اسلوب پر
حوالہ جات
[1] امدادالفتاویٰ : کتاب مسائل شتیٰ ، تحقیق حدیث تواجد جناب رسولﷺ، ۴/۵۱۰ ، مکتبہ دارالعلوم، کراچی ۔
[2] التشرف: ص:۱۰۰،مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔ التشرف : خِرْقَہ صوفیاء، علیؓ سے چلا آتا ہے ، ص : ۱۷۹، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان۔
[3] التشرف: ص:۱۰۱،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف: قوالی اور وجد وغیرہ کی تحقیق ، ص : ۱۷۹، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں) کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
روایت: ”جو شخص اللہ کی ہم نشینی اختیار کرنا چاہے تو وہ اہلِ تصوف کے ساتھ بیٹھا کرے“، یہ روایت ان الفاظ سے منقول نہیں ہے۔
اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
مقدمہ