التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔

تفصیل

”اس پر استطرا داً ایک بات یاد آگئی، وہ یہ کہ دنیا میں ایسے جاہل صوفی بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ قرآن میں لفظِ عشق موجود ہے، بھائی قرآن میں کہاں ہے اول سے آخر تک دیکھ لو؟ الفاظِ قرآن تو محدود ہیں، معانی البتہ غیر محدود ہیں، اللہ تعالیٰ نے دریا کو کوزہ میں بھر دیا ہے ۔

جاہل صوفی جواب میں کہتا ہے کہ  {حم عسق}  یہ اصل میں عشق ہے، کسی نے کہا کہ اس میں تو سین ہے اور عشق میں شین ہے، تو آپ [یعنی جاہل صوفی]  کہتے ہیں کہ اصل میں تو شین ہی تھا مگر چونکہ حضور ﷺ پڑھے ہو ئے تھے نہیں (نعوذ باللہ )، اس لئے آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا، اس لئے آپ  ﷺ کی رعایت سے سین نازل کیا گیا، اب  پیغمبر ﷺ پر بھی وہی اعتراض ہو گیا، جو بلال r  پر تھا کہ  {أسهد}  کہتے تھے۔

مجھے اس روایت پر یقین نہیں ہے، نہ معلوم کہاں کی روایت ہے، اور اگر ثابت بھی ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ حبش [كذا في الأصل] کے رہنے والے تھے، ان سے شین نہ نکلنا کچھ عجب نہیں، مگر حضور ﷺ تو عرب العرباء افصح البلغاء تھے، آپ ﷺ سے شین کا ادانہ ہو نا بہت تعجب کی بات ہے، اگر ایسا ہو تا اور ایسی رعایت ہوتی تو معوذتین میں بھی شین نہ ہوتا، {من شر} کی جگہ {من سر} ہوتا ۔۔۔“[1]۔

حوالہ جات

[1] خطبات حکیم الامت : جاہل صوفیاء ،۱۲/۱۷۹  ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔

[2] خطبات حکیم الامت : مومن کا خاصہ،۱۴/۲۱  ، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔