روایت: ’’ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: ’’ابن آدم خلقتك لعبادتي فلا تلعب، وتكفلت برزقك فلا تتعب، فاطلبني تجدني، فإن وجدتني وجدت كل شيء، وإن فتك فاتك كل شيء، وأنا أحب إليك من كل شيء‘‘.اے ابن آدم! تجھے میں نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا، لہذا تو کھیل کود میں مت لگ، اور تیری روزی کا ذمہ میں نے لیا ہے لہذا تو مت تھک، تو مجھے طلب کر، تو مجھے پا لے گا، اگر تونے مجھے پالیا تو تونے ہر چیز کو پالیا، اور اگر میں تجھے نہ ملا تو تجھے کوئی شئ نہ ملی، اور میں تیرے لئے ہر شئ سے زیادہ محبوب ہوں‘‘۔
باب: ذات و صفاتِ باری تعالیٰ
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، اس کی محبت و رحمت، اور اس بارے میں منسوب احادیثِ قدسیہ۔
گروپ: عقائد
16 روایات
روایت: حضرت موسی e کے پوچھنے پر اللہ تعالی کا فرمانا کہ جب میں کسی بندے پر مہربان ہوتا ہوں تو اسے بیٹی عطا کرتا ہوں۔
روایت: ’’ألا! طال شوق الأبرار إلى لقائي، وأنا إليهم لأشد شوقا‘‘. آگاہ ہوجاؤ! نیک بندوں کا مجھ سے ملاقات کا شوق بہت بڑھ گیا ہے، اور میں ان سے بھی زیادہ ان کا مشتاق ہوں۔
روایت:اللہ سبحانہ وتعالی ارشاد فرماتے ہیں: ’’من أحبني قتلته، ومن قتلته فأنا ديته‘‘. جس نے مجھ سے محبت کی میں نے اسے قتل کیا، اور جسے میں نے قتل کیا میں خود ہی اس کی دیت ہوں۔
روایت: حدیث قدسی ہے: ’’عبدي أنا لك محب، فبحقي عليك كن لى محبا‘‘.اے میرے بندے! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، تجھ پر میرے حق کی قسم ہے کہ تو (بھی) مجھ سے محبت کر۔
روایت: حدیث قدسی ہے: ’’عبدي كل يريدك لنفسه، وأنا أريدك لك‘‘. اے میرے بندے! ہر کوئی تجھے اپنے لئے چاہتا ہے اور میں تجھے صرف تیرے لئے پسند کرتا ہوں۔
روایت: ’’اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں: ’’ أدعوك وللوصل تأبى، أبعث رسولي في الطلب، أنزل إليك بنفسي، ألقاك في النوام‘‘. میں تمہیں بلاتا ہوں، اور تم ملنے سے انکار کرتے ہو، میں تلاش میں اپنا قاصد بھیجتا ہوں، نیند میں تمہارے پاس بذاتِ خود جلوہ افروز ہوکر تم سے ملتا ہوں‘‘۔
اللہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں
روایت: ’’ کنتُ کَنْزاً مَخْفِیًّا لا أعْرَفُ ...‘‘. ’’میں ایسا چھپا ہوا خزانہ تھا کہ جسے کوئی پہچانتا نہیں تھا۔۔۔‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’المَعْرِفَةُ رَأسُ مَالِي...‘‘. اﷲ کی معرفت میرا سرمایہ ہے۔۔۔‘‘۔