روایت:اللہ سبحانہ وتعالی ارشاد فرماتے ہیں: ’’من أحبني قتلته، ومن قتلته فأنا ديته‘‘. جس نے مجھ سے محبت کی میں نے اسے قتل کیا، اور جسے میں نے قتل کیا میں خود ہی اس کی دیت ہوں۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] فصول البدائع في أصول الشرائع:2/427،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1427هـ .
[2] الفواتح الإلهية والمفاتح الغيبية:1/166،المطبعة العثمانية ـ دار الخلافة العلية الإسلامية،الطبعة الأولى 1325هـ .
’’فواتح الالہیہ‘‘کی عبارت ملاحظہ ہو:’’قال سبحانه في الحديث القدسي: من أحبني أحببته، ومن أحببته قتلته، ومن قتلته فعلى ديته، ومن على ديته فانا ديته‘‘.
[3] مرقاة المفاتيح:7/4،رقم:3446،ت:جمال عيتاني،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[4] روح البيان:1/286،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[5] روح المعاني:1/468،ت:علي عبد الباري عطية،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
ملتی جلتی احادیث
چاشت کے وقت کی دعا: ’’اللهم بك أحاول وبك أصاول وبك أقاتل‘‘. اے اللہ! میں تجھ ہی سے اپنے مقاصد کی کامیابی طلب کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے دشمنوں پر حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے جہاد کرتا ہوں۔
روایت:’’اللہ تعالی نے فرشتوں کو پیدا کرکے ان میں عقل رکھی، اور چوپایوں کو پیدا کرکے ان میں شہوت رکھی، اور بنی آدم کو پیدا کرکے اس میں عقل اور شہوت دونوں رکھی ہیں، تو جس کی عقل شہوت پر غالب آگئی وہ ملائکہ سے افضل ہے، اور جس کی شہوت عقل پر غالب آگئی وہ چوپایوں سے کمتر ہے‘‘۔
روایت:’’بروز قیامت بندہ کے سامنے اس کے اعمال پیش کئے جائیں گے جسے وہ دیکھے گا، اور بار بار دیکھے گا،پھر حیران ہوکر باری تعالیٰ سے عرض کرے گا : اے اللہ! اتنےسارے اعمال تو میں نے کئے ہی نہیں ہیں؟ اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: تونے فلاں شخص کو دعوت دی تھی، اس نے مجھے راضی کرنے کے لئے اعمال کئے وہ تمام اعمال تیرے حصہ میں لکھے گئے ہیں‘‘۔
روایت: ’’ألا! طال شوق الأبرار إلى لقائي، وأنا إليهم لأشد شوقا‘‘. آگاہ ہوجاؤ! نیک بندوں کا مجھ سے ملاقات کا شوق بہت بڑھ گیا ہے، اور میں ان سے بھی زیادہ ان کا مشتاق ہوں۔
روایت: آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ من حفر لمسلم قليبا أوقعه الله فيه قريبا‘‘. جو شخص کسی مسلمان کےلئےکنواں کھودےاللہ تعالی جلد ہی اسے اس میں گرا دیتے ہیں۔